انتخابی اسٹرٹیجک پلان کا اعلان

نئی حلقہ بندیوں کے لیے ضروری ہے کہ پہلے حکومت مردم شماری کرائے


Editorial June 08, 2014
دسمبر 2015ء تک الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیو میٹرک ووٹر شناختی نظام کے منصوبے پر پائلٹ پراجیکٹ کے طورپرعمل کیا جائیگا فوٹو: فائل

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جمعرات کو دوسرا پانچ سالہ انتخابی اسٹرٹیجک پلان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آیندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کی جائے گی جس کے لیے پارلیمنٹ سے ضروری قانون سازی کی جائے گی۔ سیکریٹری کمیشن نے واضح کیا کہ عام انتخابات 2018ء میں ہوں گے۔

2013ء میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کچھ نشستوں پر دھاندلی ہوئی ہے لہٰذا ان حلقوں میں دوبارہ گنتی کرائی جائے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے عام انتخابات 2013ء میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات ملکی تاریخ میں شفاف ترین تھے' چار کے بجائے چالیس حلقوں کے ووٹوں کی تصدیق کرائی جائے ہمیں اعتراض نہیں، ان انتخابات کو یورپی یونین کے مبصرین سمیت عالمی نمایندوں نے سراہا تھا، الیکشن کمیشن کو لکھ کر دیا گیاکہ گیارہ مئی کے انتخابات میں کچھ مقامات میں بدانتظامی نظر آئی لیکن کسی دھاندلی کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو نہیں دی گئی، انتخابات پر تحفظات رکھنے والی جماعتوں کے تحفظات ضرور دور ہونے چاہئیں۔

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ شفاف انتخابات کرانے اور دھاندلی کے امکانات ختم کرنے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم کے تحت انتخابات کرائے جائیں' موجودہ طریقہ انتخابات درست نہیں' اس میں دھاندلی کے کھلے مواقع موجود ہیں اور کوئی بھی طاقتور اور بااثر گروہ دھاندلی کے ذریعے انتخابات جیت سکتا ہے۔ پاکستان میں منعقد ہونے والے انتخابات کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ اپوزیشن نے انتخابات کو کبھی شفاف قرار نہیں دیا اور ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا کہ اسے انجینئرڈ طریقے سے ہرایا گیا' اگر دھاندلی نہ ہوتی تو آج وہ اپوزیشن میں ہونے کے بجائے اقتدار میں ہوتی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ بعض سیاسی پارٹیاں بھی دھاندلی کے ایسے ہی الزامات عائد کرتی رہیں۔ الزامات کے اس سلسلے نے عوام میں منفی تاثر کو ابھارا اور ان کا اعتماد انتخابات اور سیاستدانوں پر سے اٹھتا چلا گیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی بڑی اکثریت نے انتخابات کے دوران ووٹنگ میں حصہ لینا چھوڑ دیا اور ٹرن آئوٹ کم ہوتا چلا گیا۔ عوام میں اس خیال کو تقویت ملی کہ جب الیکشن میں دھاندلی ہی ہونی اور ایک طے شدہ منصوبے کے تحت نتیجہ برآمد ہونا ہے تو ان کے ووٹ ڈالنے کا کیا فائدہ۔ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ اعتراضات بھی اٹھائے گئے کہ الیکشن کمیشن با اختیار نہیں اور وہ دھاندلی روکنے میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتا' دھاندلی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہر قسم کے سیاسی دبائو سے دور رکھا اور زیادہ سے زیادہ بااختیار بنایا جائے اور غیر جانبدار، ایماندار شخص کو الیکشن کمشنر مقرر کیا جائے۔ 2013ء میں منعقد ہونے والے عام انتخابات سے قبل یہ کوشش کی گئی کہ الیکشن کمشنر ایک غیرجانبدار اور قابل اعتماد شخص ہو۔

دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے متفقہ طور پر الیکشن کمشنر کا چنائو کیا۔ یہ بالکل درست رائے ہے کہ جب تک الیکشن کمیشن زیادہ سے زیادہ بااختیار اور غیر جانبدار نہیں ہو گا انتخابات میں دھاندلی کے امکانات موجود رہیں گے۔ موجودہ الیکشن کمیشن کے اختیارات کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ اور پریذائیڈنگ افسران کے خلاف الیکشن کمیشن کے پاس براہ راست کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ انتخابی ٹریبونلز کے ذریعے الزام ثابت کرکے آئے پھر الیکشن کمیشن قانون کے مطابق کارروائی کرے گا' الیکشن کمیشن کے پاس دھاندلی کا از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں۔

انتخابی اصلاحات کے لیے آئین اور قوانین میں ترامیم کرنا ہوں گی اس مقصد کے لیے چھ ماہ سے ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے فوری طور پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے۔ یہ خوش کن امر ہے کہ سیاسی جماعتیں اور الیکشن کمیشن انتخابات کو زیادہ سے زیادہ شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب عام انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت کرانے کا فیصلہ خوش آیند ہے۔ امید ہے کہ اس سسٹم کے تحت ہونے والے انتخابات دھاندلی سے پاک ہوں گے اور ہارنے والے سیاستدانوں کو دھاندلی کے الزامات لگانے کا موقع نہیں ملے گا جو بھی جیتے گا وہ عوامی ووٹ کی طاقت کے بل بوتے پر منصفانہ طور ہی پر جیتے گا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے انتخابات کرانے کے لیے پارلیمنٹ سے ضروری قانون سازی کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بائیو میٹرک سسٹم کے تحت بلدیاتی انتخابات نومبر تک کرا دیے جائیں گے' پنجاب اور سندھ سے بھی بلدیاتی انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت کروانے کی درخواست کی ہے، بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے جب وہ کہیں گی انتخابات کروا دیں گے۔ 2013ء کے عام انتخابات سے قبل قومی صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کے ایشو نے بھی بہت سے مسائل پیدا کیے۔ اب اس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری دوسرے پانچ سالہ اسٹرٹیجک پلان کے مطابق دسمبر 2016ء تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیاں جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم کے تحت ہوں گی' پولنگ اسٹیشنوں کی اسکیم چار ماہ قبل تیار ہو گی' انتخابی عملے کو جوابدہ بنایا جائے گا' مارچ 2015ء تک سیاسی جماعتوں کے 2002ء کے قانون پر نظرثانی کر کے سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات کے انعقاد اور انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے ساتھ ساتھ رجسٹریشن کا یکساں طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

دسمبر 2015ء تک الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیو میٹرک ووٹر شناختی نظام کے منصوبے پر پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر عمل کیا جائے گا۔ نئی حلقہ بندیوں کے لیے ضروری ہے کہ پہلے حکومت مردم شماری کرائے۔اب سیاستدانوں کا بائیو میٹرک سسٹم کے تحت انتخابات کرانے کا مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔ امید ہے کہ آیندہ بلدیاتی اور عام انتخابات دھاندلی سے پاک ہوں گے اور صحیح نمایندے ہی منتخب ہو کر اسمبلیوں میں آئیں گے۔