معاشی ترقی کے دعوے اور عوام کی حالت زار

عام آدمی بجٹ میں پیش کیے جانے والے گورکھ دھندوں سے واقف نہیں ہوتا اور نہ اسے حکومتی مشکلات ہی کا ادراک ہوتا ہے


Editorial June 09, 2014
عام آدمی بجٹ میں پیش کیے جانے والے گورکھ دھندوں سے واقف نہیں ہوتا اور نہ اسے حکومتی مشکلات ہی کا ادراک ہوتا ہے. فوٹو:فائل

KARACHI: ملکی اقتصادیات کو درپیش چیلنجز کے وسیع تر تناظر میں حکومت عوامی آسودگی اور خوشحالی کے لیے بہت سے اقدامات کر رہی ہے مگر ابھی تک ان اقدامات کے معاشی ثمرات عوام کی دہلیز تک نہیں پہنچے۔ قرضوں کے لیے کشکول سے نجات اور معاشی انقلاب کے جو دعوے کیے جا رہے تھے ابھی تک وہ حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے۔ معاشی نظام میں عدم توازن اور امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کے باعث عوامی زندگی میں تبدیلی نہیں آ سکی اور عوام کی بھاری اکثریت غربت کی دہلیز پر جوں توں کرکے زندگی کے دن بیتا رہی ہے۔

عام آدمی بجٹ میں پیش کیے جانے والے گورکھ دھندوں سے واقف نہیں ہوتا اور نہ اسے حکومتی مشکلات ہی کا ادراک ہوتا ہے، وہ تو یہ جانتا ہے کہ حکومتی بجٹ کے بعد اسے کیا ریلیف ملا اور اس کی زندگی میں کیا بہتری آئی ہے۔ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ محروم طبقات کے لیے بہت سی معاشی پالیسیاں متعارف کرا چکی ہے۔ مگر مسئلہ معاشی نظام کی تبدیلی کا ہے۔ ایسی پالیسیوں کو بروئے کار لانا چاہیے جس سے عوام کو بنیادی سطح پر براہ راست ریلیف مل سکے۔ حالیہ بجٹ میں اعلان کردہ اقدامات اور دستاویزات میں تضادات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فصلوں کی انشورنس اور چھوٹے قرضوں کے لیے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔

آئی ڈی پیز کے ریلیف' بحالی' تعمیر نو اور سیکیورٹی کے لیے بھی کوئی رقم نہیں رکھی گئی۔ تخفیف غربت پروگرام کا بجٹ بھی 14 ارب 50 کروڑ روپے سے کم کر کے 7 ارب 66 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ وزیراعظم کی سود سے پاک قرضہ اسکیم کے لیے بھی کوئی رقم نہیں رکھی گئی۔ حکومت بڑے پیمانے پر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دے رہی ہے مگر جب تک معاشی نظام میں توازن پیدا نہ ہو گا کوئی بھی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کو ترجیح نہیں دے گا۔ معاشی نظام میں ریاستی کنٹرول نہ ہونے کے باعث روز مرہ اشیا کی قیمتوں کے گراف میں اتار چڑھائو کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے، غیر یقینی کی اس صورت حال کے باعث سرمایہ کاروں کو اچانک مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

جہاں تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں میں توازن برقرار ہو اور معاشی مارکیٹ میں کسی قسم کی بے یقینی نہ ہو سرمایہ کار ایسی جگہوں پر سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ حکومت ابھی تک ملک میں امن و امان کی صورت حال بھی بہتر نہیں بنا سکی، سیکیورٹی اداروں پر دہشت گردوں کے حملوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ایسی صورت حال میں غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی جانب کیسے راغب ہو سکتا ہے۔ توانائی کا بحران اپنی جگہ منہ کھولے کھڑا ہے۔ اگرچہ حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ نندی پور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کا افتتاح ہو چکا ہے۔ آیندہ مالی سال کے لیے دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ کی زمین کے حصول کے لیے 15 ملین روپے کے فنڈز مختص کیے جا چکے ہیں۔

اس منصوبہ کی تکمیل سے 4500 میگاواٹ سستی بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو گی جس سے توانائی کی بڑھتی ہوئی ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ آیندہ 4 سال میں 10ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں آ جائے گی جس سے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ آیندہ چند سالوں میں بجلی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بجلی کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔ توانائی کے بحران کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کو ملکی معاشی نظام بہتر بنانے کے لیے روایتی کے بجائے انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سوئس بینکوں میں پاکستانی سیاستدانوں' بیوروکریٹ اور سرمایہ داروں کے غیر قانونی طور پر 200 ارب ڈالر جمع ہیں اگر اس رقم کو واپس لایا جائے تو پاکستان میں معاشی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ حکومت قومی اسمبلی کو بتا چکی ہے کہ سوئس بینکوں میں رقوم جمع کرانے والوں کے نام اور اکائونٹ کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ اور پاکستان کے درمیان ٹیکس معاہدے میں ترامیم کے لیے 26 اگست کو مذاکرات ہوں گے۔ حکومت ابھی تک تمام تر دعووں کے باوجود غیر ملکی قرضوں کے حصول سے نجات نہیں پا سکی۔ گزشتہ ماہ آئی ایم ایف نے 55 کروڑ ڈالر کے آسان شرائط پر قرضے کی منظوری دی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت قرضے لینے کے بجائے معاشی نظام کو بہتر بنا کر ملکی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرنے کی پالیسی تشکیل دے۔ میڈیم ٹرم ڈیٹ مینجمنٹ حکمت عملی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30جون 2014ء تک پاکستان کے ذمے غیر ملکی قرض 72 ارب ڈالر سے بڑھ جائے گا۔ حکومت اقتصادی پالیسی کو بہتر بنانے کے بجائے غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے جن کے بڑھنے سے مستقبل میں پاکستان کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

حکومت نے 2ڈالر یومیہ کمانے والے کو غریب قرار دے کر غربت کا جو پیمانہ مقرر کیا ہے اس کے مطابق پاکستان میں 60 سے 70 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن گزار رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں لیکن غریب آدمی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ اس ذخائر سے اسے کیا ملا۔ حکومت کے معاشی ترقی کے دعوے تبھی حقیقت کا روپ دھاریں گے جب عام آدمی اپنے معاشی معیار میں بہتری محسوس کرے گا۔