نئی بھارتی حکومت بھی پاکستان کیساتھ تجارت بڑھانا چاہتی ہے بھارتی ہائی کمشنر

گزشتہ برس باہمی تجارت میں اڑھائی تا 3 ارب ڈالراضافہ ہوا، تجارتی فروغ کی کوششیں تیز کرنا ہونگی، بھارت نے ویزوں سے۔۔۔


Staff Reporter June 10, 2014
اگلے ہفتے لاہور میں دونوں ملکوں کے کسٹم حکام کااجلاس ہوگا، جائز شکایات فوری دور کی جائینگی، ٹی سی اے راگوان، فیصل آباد چیمبر میں خطاب، کراچی دہشت گردی کی مذمت۔ فوٹو: فائل

نئی بھارتی حکومت بھی علاقائی تجارت کے فروغ کیلیے خاص طور پر پاکستان سے روابط بڑھانے پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کیلیے تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے، بزنس ویزے کے اجرا کو مزید آسان بنانے اور ترجیحی بنیادوں پر تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یہ بات بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگوان نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں اور صنعتکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نو دس سال بعد فیصل آباد آئے ہیں۔ اس دوران فیصل آباد نے قابل تحسین ترقی کی ہے اور اس کیلیے میں آپ لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کا دورہ کیا تو وہ بھی نئی دہلی میں تھے اور انہیں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کو ایک ساتھ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ ا نہوں نے اس مقولے کو دہرایا کہ ہم دوستوں کا انتخاب کر سکتے ہیں مگر ہمسایوں کا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی نہ ہونے سے اس خطے کو صحت، تعلیم اور غربت سمیت کئی چیلنجزکا سامنا ہے۔ انہوں نے دہشتگردی کا بھی ذکر کیا اور خاص طور پر کراچی واقعے کی مذمت کی جس کی وجہ سے پہلے ہی خطے کی ترقی متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس پاک بھارت تجارت میں اڑھائی سے تین ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور ہمیں دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کیلیے کوششوں کو مزید تیزکرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے طور پر تجارت کیلیے سہولتیں دینے کی ہر ممکن کوششیں کیں ہیں۔ بزنس ویزے کے آزادانہ اجرا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اب ملٹی پل انٹری ویزے اور ملٹی پل سٹی ویزے جار ی کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹورازم کیلیے گروپ ویزے کے بارے میں بھی حال میں ہی ایک معاہدہ ہوا ہے۔

اس سلسلے میں بھارت نے اپنی کارروائی مکمل کر لی ہے اور توقع ہے کہ پاکستان کی طرف سے جلد کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس پر عملدرآمد شروع کر دیا جائیگا۔ بھارتی ہائی کمشنر نے مزید کہا کہ زمینی تجارت کیلیے مزید روٹ کھولے جا رہے ہیں جبکہ واہگہ اٹاری بارڈر کے اوقات کاربھی بڑھائے جا رہے ہیں۔ یہاں پر دونوں ملکوں کے تاجروں کو ملنے کی بہتر سہولتیں دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تا ہم انہوں نے بتایا کہ ویزے کی بنیادی شرائط کے بارے میں تاجروں کو آگاہ کرنے کیلیے رمضان کے فوراً بعد فیصل آباد سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی ورکشاپوں کا اہتمام کیا جائیگا۔ مسٹر راگووان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تین معاہدے ہورہے ہیں جن میں کسٹم کوآپریشن، معیارات کو تسلیم کرنے اور تجارتی مسائل کے حل کے معاہدے شامل ہیں۔

کسٹم کے حوالے سے بعض مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ اگلے ہفتے لاہور میں دونوں ملکوں کے کسٹم حکام کی ایک رابطہ میٹنگ ہو رہی ہے اس میٹنگ میں بھارتی ہائی کمیشن کا ایک نمائندہ بھی شریک ہوگا تا کہ لوگوں کی جائز شکایات کے حل کیلیے فوری اقدامات تجویزکیے جا سکیں۔ انہوں نے سرحدوں کے آرپار آنے جانے والوں کیلیے موبائل فون سروس کی سہولت اور کوریئر سروس کو بھی آسان بنانے کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ ستمبر میں فیصل آباد میں ہونیوالے کلر اور کیم ایکسپو میں بھی ضرور شرکت کریں گے۔ آخر میں مہمان خصوصی کو فیصل آباد چیمبر کی شیلڈ کے علاوہ تحائف بھی پیش کیے گئے۔