تھپڑ کیس میں وحیدہ شاہ کی 2سالہ نا اہلی کالعدم جرمانہ برقرار دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ میں سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل مسترد، ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا برقرار رہے گی


Staff Reporter September 20, 2012
سندھ ہائی کورٹ میں سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل مسترد، ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا برقرار رہے گی، دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنا دیا۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ ہائیکورٹ نے پولنگ عملے پر تشدد کے الزام میںسزایافتہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیدہ وحیدہ شاہ کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے پی ایس 53پر نئے انتخابات کرانے کی ہدایت کی ہے۔

فاضل عدالت نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کرتے ہوئے وحیدہ شاہ کے خلاف جرمانے کا فیصلہ برقرار رکھا تاہم وحیدہ شاہ کی دو سال کی نااہلی کی سزا ختم کردی ہے، جسٹس منیب اخترکی سربراہی میں دو رکنی بینچ کا فیصلہ بدھ کو جسٹس شاہد انور باجوہ نے سنایا ، فیصلے میں پی ایس 53ٹنڈو محمد خان پر25فروری 2012 کو منعقدہ الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کوقانون میں دی گئی مدت میں دوبارہ انتخابات کرانے کی ہدایت کی، عوامی نمائندگی کے ایکٹ کی دفعہ 100 کے تحت درخواست گزار کو دوسال کے لیے نااہل قراردینے کا فیصلہ کالعدم قراردیا جاتا ہے۔

تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے وحیدہ شاہ کو ایک ہزار روپے جرمانے کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے اور اس فیصلے کے خلاف ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قراردیا جاتا ہے۔ وحیدہ شاہ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی جس پر ماتحت عدالت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قراردے دیا۔ الیکشن کمیشن نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ (سرکٹ برانچ حیدرآباد)میں اپیل دائر کی ، جبکہ وحیدہ شاہ نے سزا کی بنیاد پر اپنی نااہلی کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ، عدالت نے الیکشن کمیشن کی درخواست پردونوں درخواستوں کو یکجا کردیا تھا۔

واضح رہے کہ 25فروری 2012کو پی ایس 53 پر ضمنی انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن 16گورنمنٹ گرلزہائی اسکول میں امیدوار وحیدہ شاہ کی جانب سے پولنگ عملہ پر تشدد کا واقعہ سامنے آنے پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیا تھا۔ریٹرننگ افسر نے قرار دیا تھا کہ وحیدہ شاہ نے ریپریزینٹیشن آف پیپل ایکٹ1976کی دفعہ86(3)کی خلاف ورزی کی ہے۔الیکشن کمیشن نے تحقیقات کے بعد وحیدہ شاہ کو عوامی نمائندگی کیلئے نا اہل قرار دیتے ہوئے ان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن کاالعدم قراردے دیا تھا۔الیکشن کمیشن نے انھیں جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی ، عدالت میں وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشاد علی،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل میران محمد شاہ،درخواست گزار کے وکیل جسٹس(ر) رشید اے رضوی جبکہ مدعا علیہ مشتا ق علی تالپور کی جانب سے یوسف لغاری ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔