لاپتہ افراد کے مقدمات شہریوں کی خیبر پختونخواکے حراستی مراکز میں موجودگی کی تفصیلات طلب

قانون نافذکرنیوالے اداروں کی جانب سے لاپتہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق رپورٹوں کو ریکارڈ کا حصہ بنالیا گیا


Staff Reporter June 20, 2014
قانون نافذکرنیوالے اداروں کی جانب سے لاپتہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق رپورٹوں کو ریکارڈ کا حصہ بنالیا گیا، فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے فوجی حراستی مراکز میںقید کراچی کے لاپتہ شہریوں سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے وفاق کے وکیل کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخواہ میں قائم فوجی حراستی مراکز سے کراچی سے لاپتہ ہونے والے افراد کے متعلق معلومات حاصل کی جائیں اور خیبرپختونخواحکومت سے بھی مدد لی جائے۔

جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے جمعرات کو کئی لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کی،درخواستوں میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ ساتھ کئی خفیہ اداروں کو بھی فریق بنایا گیا ہے ، فاضل بینچ نے مختلف قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے لاپتہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق رپورٹوں کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے انھیں شہریوں کی تلاش کیلیے مزید اقدامات کی ہدایت کی ، خانزادہ خان کی درخواست کی سماعت کے موقع پر ڈی ایس پی منگھوپیر نے بتایا کہ عدنان امین اور بلال کی گمشدگی سے متعلق تحقیقات جاری ہیں،عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مکمل تفتیشی ریکارڈ پیش کیا جائے،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزار کا بھائی عدنان امین اپنے دوست بلال جو کہ ایف سی اہلکار ہے کہ ہمراہ31اکتوبر 2012کوموٹر سائیکل پر جارہا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے رکنے کا اشارہ کیا ۔

جس پر وہ گھبراگئے اور قریب ہی جان بچانے کیلیے پناہ لے لی،اس موقع پر سچل رینجرز ونگ44کے اہلکاروں نے انھیں حراست میں لے لیا وہ تاحال لاپتہ ہیں،عدالت نے قانون نافذکرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ دونوں کی بازیابی کیلیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں،عدالت نے اسٹینڈنگ کونسل کو ہدایت کی کہ فوجی حراستی مراکز سے بھی دونوں لاپتہ افراد کی معلومات حاصل کی جائیں،عدالت نے بفرزون سے لاپتہ ہونے والے حافظ احسان اللہ کی فوجی حراستی مرکز میں قید سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

سماعت کے موقع پرتفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش کے مطابق حافظ احسان اللہ قانون نافذکرنے والے کسی ادارے کی تحویل میں نہیں، درخواست گزار سیف اللہ کے وکیل سید عبدالوحیدایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ 10اکتوبر2013کو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش ہونے والی رپورٹ کے مطابق فوجی حراستی مراکز میں قیدافراد کی فہرست میں سیریل نمبر650پر درج تھا،اسٹینڈنگ کونسل نے فوجی حراستی مرکز سے معلومات حاصل کرنے کیلیے مہلت طلب کرلی،عدالت نے سماعت 15 جولائی تک ملتوی کردی،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزرا کابیٹا حافظ احسان اللہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتا ہے، 26 ستمبر 2012 کو لاپتہ ہوگیا تھا۔