بلوچستان کے خسارے کے بجٹ کا اعلان

بلوچستان اسمبلی میں آیندہ مالی سال کے لیے 215.7 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔


Editorial June 21, 2014
حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے بجٹ میں چار ہزار نئی ملازمتوں کے لیے گنجائش پیدا ہو گی۔ فوٹو؛فائل

بلوچستان اسمبلی میں آیندہ مالی سال کے لیے 215.7 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔ اس میں صوبے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے ساتھ سماجی اور اقتصادی انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کی جائے گی تاکہ روز گار کے مواقع میں اضافہ کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ کی حکومت نے یہ دوسرا بجٹ پیش کیا ہے جس کے لیے مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنے' ٹیکس کے محصولات میں اضافہ کرنے، ساحلی پٹی کی تعمیر و ترقی اور بلوچستان کی وسیع و عریض اراضی کے نیچے دبی قیمتی معدنیات کو نکال کر ان کو مفید استعمال کے لیے لانا اور اس کے ساتھ ہی سرکاری اعمال کی کرپشن پر قابو پانا شامل ہے۔

صوبے میں شمسی توانائی سے کام لے کر توانائی کی قلت پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی تا کہ سرمایہ کاری کی رفتار تیز کی جا سکے اور سرکاری اور نجی شعبے کے اشتراک سے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ واضح رہے 215.7 ارب روپے کا بجٹ بھاری خسارے کا بجٹ ہے جس میں 15.6 ارب روپے کا خسارہ دکھایا گیا ہے جس پر قابو پانے کی خاطر مجموعی بجٹ کا تقریباً ایک چوتھائی یعنی 50.7 ارب روپے سرمایہ کاری کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے بیرونی قرضے کی مد میں 2.7 ارب روپے کی امداد ملے گی جس سے امید ظاہر کی گئی ہے جاری منصوبوں کی تکمیل کی رفتار تیز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ صوبہ بلوچستان جو کہ اپنے حجم کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے تاہم اس کی آبادی صرف پچاسی لاکھ کے لگ بھگ ہے جو کہ اس دشوار گزار سرزمین پر دور دور پھیلی ہوئی ہے لیکن چونکہ ٹرانسپورٹ اور مواصلات کا نظام زیادہ موثر نہیں اس لیے دور دراز کی آبادیوں تک پہنچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

بلوچ عوام کے حالات بدلنے کے لیے موجودہ بجٹ کو اقتصادی ماہرین ناکافی قرار دے رہے ہیں لیکن اگر یہاں گوادر کی بندر گاہ اور کوسٹل ہائی ویز کی تعمیر کو ترجیح بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تو اس سے صوبے کو خود کفالت کی منزل تک پہنچنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مالیاتی امور کے مشیر میر خالد لانگو نے بجٹ تقریر میں کہا کہ فنڈز کی کمی صوبے کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انھوں نے کہا بلوچستان کو جو مالیاتی مشکلات درپیش ہیں انھیں وفاق کی خصوصی مدد کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔

میر خالد لانگو نے بتایا کہ اگرچہ موجودہ بجٹ سابقہ بجٹ کی نسبت 17 فیصد زیادہ ہے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں بھی سال گزشتہ کی نسبت 16 فیصد اضافہ کیا گیا ہے پھر بھی یہ رقم ضروریات کے لیے کافی نہیں ہے۔ نئے بجٹ میں صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کے ساتھ کئی دیگر مراعات کا اعلان بھی کیا گیا ہے لیکن مہنگائی میں اضافے کے تناسب سے تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ بے معنی ہے گو کہ مکان کے کرایہ اور پنشن میں بھی قدرے اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے مگر وہ بھی کافی نہیں ہے۔

حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے بجٹ میں چار ہزار نئی ملازمتوں کے لیے گنجائش پیدا ہو گی۔ جب کہ صوبے میں بیروز گاروں کی شرح آبادی کا 9 فیصد بتائی گئی ہے۔ ان اعداد و شمار کی دیگر ذرایع سے تصدیق نہیں کی جا سکتی جس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر سرکاری تخمینوں میں کوئی فرق ہوا تو طے شدہ اہداف کا حصول ممکن نہیں رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کو صوبے کے بعض علاقوں میں سرکشی کی تحریکوں کا بھی سامنا ہے جب کہ اغوا برائے تاوان اور فرقہ ورانہ قتل و غارت بھی عروج پر ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جو صوبے کی ترقی کی راہ میں بری طرح حائل ہیں۔

نئے بجٹ میں پولیس اور لیویز جدید آلات سے لیس کرنے کی کوشش کی جائے گی تا کہ سماج دشمن عناصر سے بطریق احسن نمٹا جا سکے۔ بجٹ میں انٹیلی جنس کے حصول کے لیے سی آئی ڈی کا محکمہ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ دھشت گردی اور دیگر سنگین جرائم پر قابو پایا جا سکے۔ بجٹ میں صوبائی حکومت نے جن منصوبوں کے لیے رقوم مختص کی ہیں' اگر انھیں بروقت مکمل کر لیا جائے تو صوبے کی حالت بدل سکتی ہے اور یہ پسماندہ صوبہ آنے والے وقت میں تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔