دہشت گردی کا خاتمہ… ناگزیر ایجنڈا

وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی ہر ممکن امداد کریں اور ان کی بحالی کے کاموں میں مدد کری۔۔۔۔


Editorial June 25, 2014
آئی ڈی پیز کو تنہا چھوڑ دینا آپریشن کے مخالفین کی معاونت کے مترادف ہو گا فوٹو: فائل

WASHINGTON DC: شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران سیکیورٹی فورسز نے تازہ بمباری میں 25 دہشت گرد ہلاک جب کہ ان کے 8 ٹھکانے تباہ کر دیے اس دوران 2 اہلکار بھی شہید ہوگئے، شمالی وزیرستان میں مقامی آبادی کے انخلاء کے لیے پیر کی صبح چھ سے شام چار بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی، آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق سیدگئی چیک پوسٹ پر اب تک 414429 آئی ڈی پیز رجسٹر کر لیے گئے ہیں، بنوں میں انجینئرنگ ڈویژن کی جانب سے چار امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔

ادھر فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق نقل مکانی کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا، نقل مکانی کرنے والوں میں ایک لاکھ 11 ہزار 241 مرد، ایک لاکھ 33 ہزار722خواتین اور ایک لاکھ 78ہزار بچے شامل ہیں۔ آپریشن ''ضرب عضب'' جس کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اسے منطقی انجام تک پہنچانے میں سیاسی و عسکری قیادت کو یقیناً ان نامساعد حالات اور نقل مکانی سے پیدا شدہ صورتحال کے انسانی پہلو بھی پیش نظر ہوں گے جن کی میڈیا میں رپورٹنگ جاری ہے اور جس کو مد نظر رکھتے ہوئے امدادی کاموں، آئی ڈی پیز کیمپوں اور ہنگامی طور پر قائم اسپتالوں میں بنیادی طبی سہولتوں اور ضروری ادویات و خوراک کی فراہمی کا نیٹ ورک ملک گیر سطح پر مضبوط و مربوط ہونا چاہیے تا کہ متاثرین کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔

چونکہ نقل مکانی بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے اس لیے اسی تناسب سے عارضی بحالی، مختلف علاقوں میں پناہ گزینوں کی سکونت اور ان کی روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل اور بیماریوں کے فوری علاج معالجے کا پورا میکنزم دستیاب ہونا یوں بھی ناگزیر ہے، ہمارے نمایندے کے مطابق شمالی وزیرستان سے متاثرین کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد بنوں پہنچ رہے ہیں ، قافلوں میں شامل سیکڑوں بچے اور خواتین قے اور دست کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں، درجنوں جانور ہلاک ہو گئے، دوسری طرف اسپورٹس کمپلیکس میں متاثرین میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے جو خوراک اور نقد رقوم تقسیم ہو رہی ہے وہاں بھی رش کے باعث انتہائی بدنظمی ہے، ہزاروں متاثرین کو اشیائے خور و نوش کی فراہمی میں انتہائی مشکلات پیش آ رہی ہے۔

پیر کو انتظامیہ نے بدنظمی پر کام بند کر دیا جس پر متاثرین میں اشتعال پیدا ہوا اور اسپورٹس کمپلیکس پر پتھرائو اور احتجاجاً بنوں کوہاٹ روڈ کو بند کر دیا، پولیس نے مشتعل متاثرین پر لاٹھی چارج اور ہوائی فائر نگ کی جس پر مظاہرین منتشر ہو گئے۔ اس قسم کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے انتہائی دانشمندانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ خوش آیند اطلاع ہے کہ پشاور میں صوبائی حکومت کی ہدایت پر محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے شمالی وزیرستان کے متاثرین کے لیے بنوں' لکی مروت' ٹانک اور کرک کے اضلاع میں ایک ہزار اسکول خالی کروا لیے ہیں جب کہ شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد سے متعلق تمام ریلیف اور امدادی کوششوں کو مربوط بنانے کے لیے چیف سیکریٹری کے دفتر میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جس سے ٹیلی فون نمبرز,091-9213845 ,9213959 5274339 اور5274625 جب کہ فیکس نمبر091-9212059 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ انتظام بھی کیا گیا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور اہلکار بے گھر افراد سے متعلق تمام ڈیٹا چیف سیکریٹری کنٹرول روم کو روزانہ کی بنیاد پر ارسال کریں گے، اسی طرح شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے سلسلے میں پاک آرمی کے زیر اہتمام تھانہ سٹی اے ڈویژن شاہی روڈ پر آئی ڈی پیز ریلیف کیمپ قائم کر دیا گیا ہے جس میں متاثرین وزیرستان کے لیے عطیات جمع کرانے کی اپیل کی گئی ہے۔ جاری آپریشن کے باعث متاثرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہیگا لہٰذا لوگوں کو امداد کی رقم اور فوڈ پیکیج با آسانی ملنے چاہئیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی پی کے بنوں کے رکن صوبائی اسمبلی فخر اعظم ایڈووکیٹ نے متاثرین شمالی وزیرستان آپریشن کے مختلف کیمپوں اور تمام اسپتالوں کا دورہ کیا اور صوبائی حکومت سے فوری طور پر تمام بی ایچ یوز، اسپتالوں میں ڈاکٹروں ، اسسٹنٹ اور ادویات کی کمی پوری کرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بنوں کے سرکاری اسپتالوں میں روٹین کی ادویات تک موجود نہیں، ڈاکٹروں کی کمی ہے، ایکسرے مشین خراب پڑی ہے، بیڈز بھی کم ہیں۔ ان کی جائز شکایات پر توجہ دینی چاہیے۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نبرد آزما ہیں، قوم کے ایک ایک فرد کو دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے ساتھ رہنا ہے، ان حالات میں کسی بھی قسم کی سیاسی اور غیر سیاسی بے احتیاطی سنگین صورت حال پیدا کر سکتی ہے، گورنر سندھ نے واقعتاً حقیقت پسندی کی بات کی ہے کیونکہ دہشت گردی کے واقعات ابھی بھی ہو رہے ہیں، مہمند ایجنسی کی تحصیل بائیزئی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک فوجی علی گل زخمی ہو گیا جب کہ دوسری بارودی سرنگ ناکارہ بنا دی گئی۔

ادھر شبقدر سروکلی میں مہمند ایجنسی کو بجلی سپلائی کرنے والے 132 KV ٹرانسمیشن لائن ٹاور کو نا معلوم افراد نے دھماکا خیز مواد سے اُڑا دیا جس سے پوری ایجنسی کو بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی۔ پشاور پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے حیات آباد فیز 2 میں سڑک کنارے پانی کے پائپ میں نصب 12 کلوگرام وزنی ریموٹ کنٹرول بم ناکارہ بنا کر تباہی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا جب کہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرہ کے باعث سوات کے شہر مینگورہ کے مختلف علاقوں میں دوسرے روز بھی کرفیو رہا، بازار، دکانیں اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے، سرچ آپریشن کے دوران غیر قانونی اسلحہ سمیت لائسنس یافتہ اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا، 36 گھنٹے بعد علاقے سے کرفیو اٹھا لیا گیا۔ ان واقعات و حادثات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمہ جہتی داخلی امن اور سکون کے لیے ہائی الرٹ اور چوبیس گھنٹے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ اس وقت ہمارا خطہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی حمایت ناگزیر ہے، وہ فرانس کے قومی دن کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرانس کے سفیر نے کہا فرانس اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اپنے طور پر بھی اور یورپی یونین کی سطح پر ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہے۔

دریں اثنا سابق صدر آصف زرداری نے خیبر پختونخوا میں پارٹی لیڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی ہر ممکن امداد کریں اور ان کی بحالی کے کاموں میں مدد کریں، انھوں نے صوبائی صدر کو ہدایت کی کہ آئی ڈی پیز کی بحالی کے لیے قابل عمل منصوبہ تیار کریں، اس ایشو پر پارلیمنٹ میں بھی آواز اٹھائی جائے اور متاثرہ افراد کے لیے امدادی فنڈ بنایا جائے، ارکان پارلیمنٹ سفارتکاروں کو آئی ڈی پیز کے مسائل سے آگاہ کریں۔

آئی ڈی پیز کو تنہا چھوڑ دینا آپریشن کے مخالفین کی معاونت کے مترادف ہو گا، آئی ڈی پیز کی بحالی کے اقدامات سے انھیں باخبر رکھیں ۔ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر آصف درانی نے یو اے ای کے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ لیفٹینٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ امارات کے ڈپٹی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا ملک دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی حکومت کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

یہ ایک تاریخ ساز حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے سیاسی و عسکری قیادت کے مشترکہ ڈاکٹرائن پر عملدرآمد قومی سلامتی کا اہم ترین ایجنڈا ہے جس کی قوم نے زبردست حمایت کی ہے اور جس کی ہر قیمت پر تکمیل سے ہی ملکی معیشت، جمہوری نظام، عوام کی خوشحالی اور وطن عزیز کی سماجی ترقی کے خواب مشروط اور منسلک ہیں۔