فارنسک ماہرین آگ کی وجہ نہ بتاسکے سانحہ بلدیہ کو فوٹیج طلب

تحقیقاتی ٹریبونل کا فارنسک ماہرین پر اظہار برہمی، آگ کی وجہ مشکوک ہے، چابیاں رکھنے والے شاہ رخ کو تلاش کررہے ہیں


Staff Reporter September 21, 2012
تحقیقاتی ٹریبونل کا فارنسک ماہرین پر اظہار برہمی، آگ کی وجہ مشکوک ہے، چابیاں رکھنے والے شاہ رخ کو تلاش کررہے ہیں، تفتیشی افسر۔ فوٹو : اے ایف پی/ فائل

بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری میں 250سے زائد انسانوں کے زندہ جل جانے کا معمہ حل نہ ہوسکا۔

فارنسک ماہرین کے بیان پر ٹریبونل کے سربراہ کی مایوسی، ٹریبونل نے فیکٹری کی سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کرلی۔ سانحہ بلدیہ ٹائون کے تفتیشی افسر نے آگ کی وجوہ مشکوک قرار دیں، تفتیشی افسر کے مطابق آتشزدگی کے بعد اتنی مہلت تھی کہ مزدوروں کو باہر نکالا جاسکتا تھاتاہم تالا لگاکر کام کرانے کا عمل غیرقانونی تھا، اسی وجہ سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔

جسٹس (ر) زاہد قربان علوی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹریبونل نے جمعرات کوسانحہ کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر انسپکٹر ظفراقبال ،فیکٹری کے اکاؤنٹنٹ عبدالمجید، ڈپٹی کنٹرولرشہری دفاع الطاف حسین،کیمیکل ایکسپرٹ تجمل حسین، فارنسک ایکسپرٹ انسپکٹر بشیراحمد، سب انسپکٹر قلندربخش اور ای او بی آئی کے ریجنل ڈائریکٹر سعید احمد جمانی کے بیانات قلمبند کیے، ایس ایس پی ویسٹ عامرفاروقی نے ٹریبونل کو فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کی فہرست فراہم کی جس کے مطابق فیکٹری میں 1293ملازمین کام کررہے تھے، تفتیشی افسر انسپکٹر ظفراقبال نے ٹریبونل کو بتایا کہ فارنسک انسپکٹر نے جو شواہد اور جائے وقوع سے نمونے حاصل کیے تھے۔

انھیں ٹیسٹ کیلیے لیبارٹری کو بھیج دیا گیا ہے، علی انٹرپرائزز کے مالکان سے بھتہ خوروں کے بھی روابط تھے اوروہ فیکٹری سے روزانہ 15سے25ہزارروپے مالیت کی ویسٹیج (کپڑے کی کترنیں) بھی لے جاتے تھے، وقوعہ کے روز فیکٹری کا اکاؤنٹنٹ کسی کام سے گرائونڈ فلور پر واقع گودام میںگیا تو اس نے دیکھا کہ آگ کے شعلے بلند ہورہے ہیں اور وہاں پر شاہ رخ موجود ہے جس کے پاس مختلف فلورز کے تالوں کی چابیاں بھی ہوتی ہیں، اکائونٹنٹ آگ آگ پکارتا ہوا باہر نکل گیا ،آگ کی شدت زیادہ تھی جس سے چھت بھی متاثر ہوئی، تفتیشی افسر نے بتایا کہ عبدالمجید نے آگ کی آواز لگائی تو وہاں موجود مالک شاہد بھائیلہ نے دوسری منزل پر موجود جنرل منیجر منصور کوٹیلیفون کرکے بلوایا اور سلنڈر سے آگ بجھانے کی کوشش کی مگر اس کوشش میں شدت نہیں تھی، فلورز پر تالے لگائے گئے تھے جو کہ غیرقانونی عمل ہے۔

مالک شاہد بھائیلہ سمیت 80سے زائد افرد دوسرے بلاک سے جان بچاکر بھاگ آئے، یہ 10 سے 12 منٹ کا وقفہ تھا لیکن اس دوران بھی اوپر کی منزلوں کے تالے کھولنے کی کوشش نہیں کی گئی، اگر مالک آواز لگاتا اور کہتا کہ تالاکھول دو یا توڑ دو تو صورت حال کچھ مختلف ہوسکتی تھی۔ چوکیدار کی اوپر کی منزلوں تک رسائی نہیں تھی اس لیے اس کے پاس اوپر کی منزلوں کی چابی نہیں تھی۔ اوپر کی منزلوں کا انتظام شاہ رخ نامی شخص کے پاس تھا جسے آگ لگنے کے موقع پر اکائونٹنٹ نے گودام میں دیکھا تھا۔ شارخ کی گرفتاری کیلیے تلاش جاری ہے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ میزنائن فلور غیرقانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ انسپکٹر ظفراقبال نے خدشہ ظاہر کیا کہ ابتدائی طور پر آگ بجھانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ انسپکٹر ظفراقبال نے بتایا کہ فیکٹری کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرکے متعلقہ حکام کو بھیج دی گئی ہے۔

فیکٹری کے اکاؤنٹنٹ عبدالمجید نے ٹریبونل کو بتایا کہ وہ مذکورہ فیکٹری سے 1994 سے وابستہ ہے،اس سے قبل یہ فیکٹری پلاٹF-313 پرواقع تھی اور1996میں یہاں منتقل ہوئی۔ ایک سوال پر گواہ نے بتایا کہ فیکٹری میں آگ بجھانے کے آلات اور انتظام کی موجودگی کا علم نہیں ہے۔ فیکٹری کے اپنے ملازمین 25 سے30 تھے اور بقیہ ملازمین ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرتے تھے۔ ایک سوال پر انھوں نے بتایا کہ اکثر ملازمین کو روکنے کے لیے تالا لگا دیا جاتا تھا تاکہ وہ کام ختم کرکے باہر نکلیں تاہم وقوعہ کے روز تالا لگا تھا یا نہیں اسے علم نہیں ہے۔ عبدالمجید نے بتایا کہ تالے کی چابیاں شاہ رخ کے پاس ہوتی تھیں اور تالا لگانے کا انتظام بھی اسکے پاس تھا، اس نے بتایا کہ وقوعہ کے روز بارش ہوئی تھی اس لیے کھڑکیاں بھی بند کردی گئی تھیں۔ ڈپٹی کنٹرولر شہری دفاع الطاف حسین نے بتایا کہ شہری دفاع کے پاس علی انٹرپرائزز کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔

کیمیکل ایکسپرٹ تجمل حسین نے بتایا کہ صرف 10فیصد فیکٹریاں ایسی ہوتی ہیں جہاں حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔کیمیکل کے استعمال کیلیے خصوصی تربیت یافتہ افراد ہونے چاہیئں مگر ایسا نہیں ہوتا، مذکورہ فیکٹری میں بھی اسی غفلت کا امکان ہے۔ ای او بی آئی کے ریجنل ڈائریکٹر سعید احمد جمانی نے بتایا کہ ای او بی آئی کے پاس مذکورہ فیکٹری کے صرف 200ملازمین رجسٹرڈ تھے مگر ادارے نے متاثر ہونے والے تمام ملازمین کیلیے پنشن کا اعلان کیا ہے، انھوں نے کہا کہ ای او بی آئی کو شک تھا کہ اس فیکٹری میں رجسٹرڈ ملازمین سے کہیں زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں، اس حوالے سے فیکٹری کو 8اگست کو بھی ایک خط لکھا گیا تھا۔

ٹریبونل کے سربراہ جسٹس(ر)زاہد قربان علوی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کوئی کارروائی کیوں نہ کی، فارنسک ایکسپرٹ انسپکٹر بشیراحمد اور سب انسپکٹر قلندربخش نے بتایا کہ انھوں نے شواہد جمع کرکے تفتیشی افسر کے حوالے کردیے تھے، آگ لگنے کے واقعات کا فارنسک سے براہ راست تعلق نہیں ہے جس پر جسٹس(ر)زاہدقربان علوی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں تحقیقات کیلیے سائنسی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اگر یہ محکمہ ناکارہ ہے تو اسے ختم کرنے کی سفارش کی جائے گی۔