جامعہ کراچی میں 3 نئی پی ایم ٹی نصب کردی گئیں

یونیورسٹی میں بجلی کے بحران کو انتظامیہ اپنے وسائل سے حل کررہی ہے، ڈاکٹر قیصر


Staff Reporter June 26, 2014
خواتین ہاسٹل اور کیمپس میں مقیم رہائشیوں کووولٹیج کی کمی سے نجات ملے گی۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے پاور جنریشن سسٹم کوبہتر کرنے کے لیے 3 نئی پی ایم ٹی (سب اسٹیشن )نصب کردی ہیں۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصرنے کہاہے کہ یونیورسٹی میںبجلی کے دیرینہ بحران کوانتظامیہ اپنے وسائل سے حل کررہی ہے، سائنس فیکلٹی اور فارمیسی کے شعبہ جات میں بجلی کی ترسیل زیادہ بہتر نہیں تھی جس کے سبب لیب میں سائنسی حساس آلات قیمتی کیمیکلز کے آئے دن خراب ہونے کی شکایات عام تھیں، اکثر وولٹیج بہت کم رہتا تھا جو طالب علموں اورمحققین کے لیے سوہان روح بن گیا تھا، باوجود کوششوں کے صورتحال میں بہتری نہیں آسکی تھی چنانچہ جامعہ نے اپنے وسائل سے نئی پی ایم ٹی کی تنصیب سے وولٹیج کی کمی کا مسئلہ حل کرنے کی سعی کی ہے جس سے ہمارے طلبا اور اساتذہ کو تحقیقی امور کی انجام دہی میں قدرے سہولت میسر آئے گی۔

یہی صورتحال گرلز ہاسٹل اور کیمپس میں مقیم اسٹاف اے ڈبل اے بالخصوص ای اور ڈی ٹائپ کے مکانات میں تھی جہاں رہائشیوں کو بھی وولٹیج کی کمی کی دیرینہ شکایت تھی جس کا ازالہ نئی پی ایم ٹی کی تنصیب سے حل ہوجائے گا، شیخ الجامعہ نے مزید کہا کہ امرواقعہ یہ ہے کہ اساتذہ طلبا وطالبات کی تحقیق میں رہنمائی اس وقت ہی کرسکتے ہیں جب ماحول ساز گار ہو بالخصوص بجلی کی ترسیل متواتر اور صحیح وولٹیج کے ساتھ جاری رہے لیب میں ریسرچرز اپنا خون جگر کشید کرکے مثبت نتائج حاصل کرتے ہیں لیکن اگر ان کے کام میں بجلی حائل ہوجائے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔

اس پرمستزاد یہ ہے کہ قیمتی کیمیکلز آلات بھی تلف ہوجاتے ہیں، اس موقع پر اساتذہ نے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر کی کاوشوں کو بے حد سراہا کہ وہ جس دلچسپی اورسعی مسلسل سے مادرعلمی کے حقیقی مسائل کو فی الواقع اہمیت دے رہے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ فیکلٹیز میں وولٹیج کی کمی کا مسئلہ نئی پی ایم ٹیز کی تنصیب سے بہت حد تک حل ہوجائے گا، اس موقع پررئیس کلیہ علم الادویہ پروفیسر ڈاکٹر غزالہ حفیظ رضوانی، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان،پروفیسر ڈاکٹر سہیل برکاتی،صدر انجمن اساتذہ ڈاکٹر جمیل کاظمی ،ڈاکٹر حارث شعیب ،فیکلٹی ممبرز اور انجینیئرنگ کے سہیل صدیقی اور عدیل صدیقی بھی موجود تھے۔