سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سے متعلق وضاحت طلب کر لی

کراچی آپریشن پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، پولیس شہریوں کے ساتھ زیادتی کررہی ہے، جسٹس عقیل


Staff Reporter June 26, 2014
عدالت نے سیکیورٹی اداروں کو تفصیلی جواب کیلیے 27جولائی تک مہلت دے دی۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ بتایا جائے کراچی میں کس طرح کا آپریشن ہورہاہے اورکون سے ادارے آپریشن کررہے ہیں، کس نے حکم دیا ہے۔

جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے متعدد لاپتا افراد کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں جاری آپریشن پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، آئے دن لاپتا افرادکی لاشیں مل رہی ہیں، ایسے حالات میں عدلیہ آنکھیں نہیں بند کر سکتی، ہم یہاں قانون کے نفاذاور بالادستی کے لیے بیٹھے ہیں اور یہی ہماراعہد بھی ہے، پولیس آپریشن کے نام پر شہریوں کے ساتھ زیادتی کررہی ہے، ایک ملزم کے ساتھ 20,20 بے گناہوں کو بھی گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

گارڈن کے رہائشی فخروالدین کی درخواست کی سماعت کے موقع پرمتعلقہ پولیس اہلکار پیش ہوئے، درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے بیٹے ارشد کو 10مارچ2013کو گھرکے سامنے سے رینجرز اہلکاروں نے حراست میں لیاتھا وہ تاحال لاپتا ہے،پولیس افسران نے بتایا کہ ارشد کی گمشدگی کا مقدمہ 121/2013درج کرلیا گیا تھا، قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف درج مقدمہ میں شواہد نہیں ملے جس پر مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ173کے تحت ''اے''کلاس کرنے کے لیے رپورٹ متعلقہ مجسٹریٹ اور حکام بالا کو بھیج دی گئی ہے،عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ارشد کو بازیاب کراکر عدالت میں پیش کیا جائے۔

اس موقع پر عدالت نے رینجرز کے لا افسر ضیا عارف جنجوعہ اور متعلقہ پولیس افسر سے استفسارکیا کہ کراچی میں جاری آپریشن کس طرح ہوتا ہے اورکون کرتا ہے؟جس پر پولیس افسر نے بتایا کہ رینجرز اپنی کارروائی علیحدہ کرتی اور پولیس کواپنے ساتھ شامل نہیں کرتی ،جس پر رینجرزکے لا افسر نے بتایا کہ کراچی میں 3 طرح کی کارروائیاں ہورہی ہیں،رینجرزاپنی کارروائی میں پولیس کی مدد لیتی ہے اور پولیس اپنی کارروائی میں رینجرز کی مدد لیتی ہے جبکہ تیسری طرح کی کاررروائی میں رینجرز اور پولیس علیحدہ علیحدہ کارروائی کرتی ہیں۔

جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیے رینجرز اور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں کی ساکھ بہتر ہے مگر اس طرح ان اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہورہی ہے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کو گرفتارکیا جاتا ہے اور بعد میں ان کی لاش ملتی ہے،یہ کوئی ایک دو نہیں کئی واقعات ہیں،ایسے حالات میں عدلیہ آنکھیں بند نہیں کرسکتی،جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس میں کہا کہ یہ صرف ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں کئی لوگ یہ شکایت لے کرآئے ہیں۔

شہری انصاف کیلیے عدالتوں میں آتے ہیں اگر انھیں انصاف نہیں ملے گا تو وہ جرم کریں گے،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کس طرح کا آپریشن ہے اور کس کے حکم پر ہورہا ہے،رینجرز کے لا افسر نے بتایاکہ یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے،جس پر عدالت نے سپریم کورٹ کا حکم پیش کرنے کی ہدایت کی تو رینجرزکے لا افسر نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی ہدایت پر کارروائی ہورہی ہے تفصیلات جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔