مینوئل اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کے خلاف تاحکم ثانی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت

سندھ ہائی کورٹ نے اسلحہ کے کمپیوٹرائزڈ لائسنسوں کے اجرا پر وزارت داخلہ اور نادرا سے جواب طلب کرلیا


Staff Reporter June 30, 2014
سندھ ہائی کورٹ نے اسلحہ کے کمپیوٹرائزڈ لائسنسوں کے اجرا پر وزارت داخلہ اور نادرا سے جواب طلب کرلیا ،حکم امتناع میں 16جولائی تک توسیع۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے شہریوں کو 16جولائی تک دستی اسلحہ لائسنس استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے اسلحے کے کمپیوٹرائزڈ لائسنس کے اجرا پر وفاقی وزارت داخلہ اور چیئرمین نادرا سے جواب طلب کرلیا۔

عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ دستی اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کے خلاف تاحکم ثانی کوئی کارروائی نہ کی جائے، اسلحے کے کمپیوٹرائزڈ لائسنسوں کے اجرا کے خلاف محمدایوب و دیگر کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیارکیاگیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے 25جولائی2012 کو ایک فیصلے میں نادرا کے جاری کردہ اسلحہ لائسنس کو غیر قانونی قراردے دیا تھا ، عدالت حکم کے باوجود نادررا کی جانب سے اسلحہ لائسنس جاری کیا جارہا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ نے گزشتہ 5برسوں میں آٹومیٹک مشین گن اور کلاشنکوف سمیت جدید اسلحہ کے 50ہزارکمپیوٹرائزڈاسلحہ لائسنس جاری کیے ہیں جو کہ دہشت گردوں کیلیے آسانی کا سبب بن سکتے ہیں ، یہ لائسنس ملک میں امن و امان میں خرابی کا باعث بن سکتے ہیں کیوں کہ اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ لائسنسوں کا اجرا مناسب نہیں،درخواست میںاستدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس جاری کرنے سے روکا جائے اور شہریوں کو مینوئل اسلحہ لائسنس استعمال کرنے کی اجازت دی جائے،عدالت نے اس حوالے سے دوسری درخواست کو مذکورہ درخواست سے منسلک کرنے کی استدعا منظورکرتے ہوئے 24دسمبر2013 کو مینوئل اسلحہ کے استعمال کی اجازت اور حکم امتناع میں 16جولائی تک توسیع کردی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیاتھا کہ مینوئل لائسنس میں مناسب تعداد میں صفحات موجود ہیں جن میں اضافی معلومات بھی درج کی جاسکتی ہیں،جبکہ نادرا کے تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ لائسنس میں اضافی معلومات درج کرنے کی گنجائش نہیں اور کارڈ نما لائسنس پرقواعد و شرائط بھی درج نہیں،اسلحہ لائسنس یافتہ شخص شرائط سے لا علم رہے گا ،ایسی صورت حال میں غلط استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ،موٹر وہیکل لائسنس اور پاسپورٹ پر بھی تمام قواعد و شرائط درج ہوتی ہیں تاکہ لائسنس رکھنے والا شخص اس پر عمل در آمد اور شرائط کی پابندی کرسکے،اسی طرح پاسپورٹ رکھنے والے شہری کی مکمل سفری معلومات پاسپورٹ کے صفحات پردرج ہوتی ہیں۔

اسلحہ لائسنس کے رولز41-Aکے تحت اسلحہ لائسنس کا اندراج متعلقہ پوسٹ آفس میں بھی ہونا چاہیے اوررول 42(3)(b)کے تحت متعلقہ پوسٹ ماسٹر ہی اسکی تجدید کا اہل ہے،مذکورہ قوانین میں ترمیم کیے بغیر کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس کا اجراء کیا گیا جو کہ غیر قانونی ہے عدالت نے قرار دیا تھاکہ وفاقی و صوبائی حکومتیں پاکستان آرمز آرڈیننس 1965کی دفعہ 3(!)(d)کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلحہ لائسنس جاری نہیں کرسکتیں، کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس جاری کرتے ہوئے پاکستان آرمز آرڈیننس ایکٹ1965کی دفعہ9کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے۔