اصل چیلنجز سے توجہ نہ ہٹے

پاکستان نے افغانستان سے تحریک طالبان کے امیر مولوی فضل اللہ کی گرفتاری کے لیے کارروائی اور


Editorial July 02, 2014
شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران ملکی اور غیر ملکی دہشتگردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کر کے دم لیں گے، وزیراعظم فوٹو؛ فائل

پاکستان نے افغانستان سے تحریک طالبان کے امیر مولوی فضل اللہ کی گرفتاری کے لیے کارروائی اور شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز و تفریق کارروائی ہو رہی ہے جو وہاں حکومتی عملداری قائم ہونے تک جاری رہے گی ، شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب خالصتاً پاکستان کا اپنا آپریشن ہے، پاکستانی فوج اور فضائیہ کے ہوتے ہوئے ڈرون حملوں یا کسی اور غیر ملکی معاونت کی کوئی ضرورت نہیں ۔ عالمی پالیسیوں نے دہشتگردی کو ہوا دی، پاکستان امداد نہیں تعاون چاہتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید ، وفاقی وزیر برائے ریاستی وسرحدی امور(سیفران) لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ اور آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے منگل کو غیر ملکی ذرایع ابلاغ کے نمایندوں کو شمالی وزیرستان آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ یہ بریفنگ اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان تمام ممالک کی داخلی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور عالمی قوتوں سمیت سر کش داخلی عناصر کو یہ پیغام بھی غیر مبہم انداز میں دے دیا گیا کہ پاکستان کی سرزمین اب کسی صورت دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران ملکی اور غیر ملکی دہشتگردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کر کے دم لیں گے ۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب کا فیصلہ ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد ہوا اور اب یہ آپریشن بھرپور قوت کے ساتھ شروع ہوگیا ہے۔ افواج پاکستان دہشتگردوں کا کوئی ٹھکانہ باقی نہیں رہنے دیں گی اور ریاست قبائلی علاقوں میں اپنی مکمل عملداری قائم کرے گی۔ کامیاب آپریشن کے بعد قبائلی علاقوں کی ترقی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے آپریشن راہ عضب کے 4 مراحل میں تکمیل کا اعادہ کیا گیا۔

اس میں شک نہیں کہ شمالی وزیرستان دہشتگردوں کا آخری ٹھکانہ بن چکا تھا، دہشت گردوں کے حملے ابھی جاری ہیں، منگل کو شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید ہوگئے جب کہ ایک جوان شدید زخمی ہوگیا۔ لہٰذا امن کو موقع دینے اور مشاورت کے بعد فوجی کارروائی شروع کی گئی ، دہشت گردی کے مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم دہشت گردی کے متواتر واقعات کے نتیجہ میں کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا کہ ریاستی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے۔ اس کے بعد قومی اتفاق رائے اور مشاورت سے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا، دہشت گردوں کے فرار کے تمام راستے بند کر دیے گئے، پاکستانی حکام نے ایک لاکھ سے زائد متاثرین کے سرحد پار کرکے افغانستان جانے کی خبروں کی بھی تردید کی۔

آزاد تحقیقاتی ادارے کانفلکٹ مانیٹرنگ سینٹر نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد اب ملک بھر میںدہشتگرد حملوں میں غیر معمولی کمی آئی ہے' شمالی وزیرستان کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جنگجوؤں کے خلاف کریک ڈائون میں سیکڑوں کوگرفتار کیا گیا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستان کی حاکمیت اور خود مختاری کے خلاف ہیں اور حکومت نے ہر سطح پر اس کی مخالفت کی ہے، چنانچہ اس پس منظر میں ڈرون حملوں کو موجودہ آپریشن سے نتھی کرنا مناسب نہیں جب کہ ایک اور مغالطہ کی بھی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ دہشت گردی آگ ہے آپریشن کا اجراء نہیں، یہ تو اس آگ کو بجھانے کی ریاستی اور انسانی خیر خواہی کی کوشش ہے تاکہ لوگ فاٹا سمیت ملک بھر میں چین و سکون سے رہ سکیں۔

عبدالقادر بلوچ کے مطابق عوامی مطالبہ تھا کہ امن کو موقع دیا جانا چاہیے اور حکومت مذاکرات میں انتہائی سنجیدہ تھی تاہم تحریک طالبان پاکستان نے مذاکراتی عمل ختم کیا اور دہشت گردی کی سرگرمی میں ملوث ہوئی۔ قبل ازیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ضرب عضب آپریشن کے بارے میں پریزنٹیشن دی اور بتایا کہ اب تک 376 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں، 61ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا جب کہ 19 فوجی شہید ہوئے ، فوج نے زیر زمین سرنگیں' آئی ای ڈیز تیار کرنے والی فیکٹریاں تلاش کیں اور علاقہ کو اس سے صاف کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا براہ راست نشانہ نائن الیون کے بعد سے بنا ہے،اس کی معیشت اور سیاست دونوں کو شدید دھچکے لگے ہیں ، دہشت گردی اس کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی ہے اسلیے افغانستان سے پاکستان کا یہ جائز مطالبہ کہ وہ ملا فضل اﷲ کو گرفتار کرے اور شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ کیے جائیں کوئی ناقابل عمل اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ نہیں ، لیکن ناطقہ سر بگریباں ہے ، کیونکہ افغان قومی سلامتی کے مشیر رنگین دادفر سپانتا کہتے ہیں کہ پہلے پاکستان افغانستان میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کرے اور تمام دہشتگردوں کی کمین گاہوں کا مکمل خاتمہ کرے۔

انھوں نے اگلے روز کابل میں صدارتی محل میں صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم نواز شریف کو افغان صدر حامد کرزئی کا خط حوالے کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مختلف مطالبات کیے گئے تھے،اور پاکستان سے کہا گیا کہ وہ سرحد پار شیلنگ کا سلسلہ روکے اور اپنی جیلوں میں ان طالبان کو فوری رہا کرے جو افغان حکومت کے ساتھ مفاہمتی عمل کے خواہاں ہیں۔ سپانتا یہ بھی فرماتے ہیں کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ گہرے، مخلصانہ اور وسیع تعلقات کا خواہاں ہے۔

ہم پاکستان کے ساتھ جامع اسٹرٹیجک تعلقات چاہتے ہیں، اگر خیر سگالی کے جذبات اس قدر شفاف اور نیک نیتی پر مبنی ہیں تو پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں جو آپریشن شروع کیا ہے وہ افغانستان کی سلامتی اور داخلی استحکام اور بد امنی کے خاتمہ کے لیے بھی دور رس نتائج کا حامل ہے ،اس ضمن میں تو جوابی مطالبات کا افغانی رویہ سمجھ سے بالاترہے۔ افغان حکام کو زمینی حقائق کا ادراک کرنے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ادھر وزیراعظم نوازشریف نے رواں ہفتے قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ دفتر خارجہ نے ہلمند میں مداخلت کے افغان الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ افغان حکام پاکستان کے خلاف اس قسم کے غیر ذمے دارانہ بیانات سے گریز کریں۔

بلاشبہ پاکستان افغانستان سمیت خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے لہذا افغان حکام کی جانب سے اس طرح کے الزامات اصل چیلنجز سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہیں ۔افغان حکام سمیت خطے کے تمام ممالک اس واشگاف حقیقت کا ادراک کریں کہ دہشت گردی کی ایک ہی کشتی کے ہم سب سوار ہیں ۔دہشتگردی ایک علاقے میں کریمنل ایکٹیوٹی نہیں بلکہ ہلاکت خیزعفریت اور کثیر سری ''جن'' ہے جسے عالمی برادری اپنے عظیم تر اتحاد، اشتراک اور کمٹمنٹ سے وقت اور تاریخ کی بوتل میں بند کرسکتی ہے ۔ پاکستان کی قربانیوں کا سب کو اعتراف کرتے ہوئے آپریشن کی عالمی حمایت کرنی چاہیے ۔اسی میں دنیا کا مفاد ہے ۔