وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس شمالی وزیرستان سے آنیوالے بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلانے کی ہدایت

کراچی کی پشتون آبادیوں میں وائرس سے صوبے میں پولیو کا خطرہ موجود ہے،پولیو ٹیموں کوسیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم


Staff Reporter July 03, 2014
آئی ڈی پیز اور ان کے بچوں کی رجسٹریشن کی جائے، قائم علی شاہ فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے متعلقہ حکام کو شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز کے بچوں کو صوبہ سندھ کے داخلی حدود پر انسداد پولیوویکسین کے قطرے پلانے کے ساتھ صوبے بھر باالخصوص کراچی کے پولیو سے متاثرہ علاقوں میں انسداد پولیو مہم بھر پور طریقے سے چلانے کے احکامدیے ہیں۔

یہ احکام انھوں نے بدھ کو انسداد پولیو کے حوالے سے حکمت عملی بنانے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی دوران دیے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیو وائرس اور دہشت گرد معاشرے کے لیے خطرہ ہیں اس لیے صوبہ سندھ کے تمام داخلی راستوں اور شہروں میں کڑی نگرانی کے لیے چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی محکمہ صحت اور انسداد پولیو کے دیگر ادارے آئی ڈی پیز پرخصوصی توجہ دیںاور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئی ڈی پیز کے5 سال سے کم عمر کے ہر بچے کو انسداد پولیو ویکسین کے قطرے ضرور پلائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ تاہم کراچی کی پشتون آبادیوں میں پولیو وائرس کی موجودگی سے صوبے میں پولیو وائرس کا خطرہ موجود ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پولیو کنٹرول رومز کے قیام اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو آئی ڈی پیز اور ان کے بچوں کی رجسٹریشن کی ہدایت دی ہے ۔

انھوں نے انسداد پولیو کے لیے کام کرنے والے تمام اداروں میں مربوط تعاون پر زور دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پولیو کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر قائم کرنے اور اسے فعال بنانے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے انسداد پولیو ٹیموں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکام بھی دیے۔ پولیو اوورسائٹ کمیٹی کی کوآرڈینٹر شہناز وزیرعلی نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال صوبے میں پولیو کے 7 کیسز سامنے آئے ہیں جوکہ سارے کراچی سے ہی رپورٹ ہوئے ہیں اورایک کے سوا باقی تما م پولیوکیسزمیں پشتون خاندان متاثر ہیں ان متاثرہ یونین کونسلوں کو انسداد پولیو مہم میں پہلی ترجیح پر رکھا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سندھ پنجاب اور سندھ بلوچستان بارڈر پر28انسداد پولیو ٹیموں کے علاوہ 166 ٹیمیں صوبے کے دیگر شہروں کے بس اڈوں، ایئر پورٹس، ریلوے اسٹیشنوں، مین شاہراہوں، ٹول پلازاؤں پر بچوں کو انسداد پولیوویکسین کے قطرے پلانے کے کام میں مصروف ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بعض اوقات انسدادپولیو ٹیموں کو والدین کی طرف سے بچوں کوویکسین کے قطرے پلانے سے انکار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دریں اثنابدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ خزانہ کے افسران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صوبائی محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی اتھارٹیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ جامع اورموثر حکمت عملی کے تحت ترقیاتی اسکیموں کا متوازن شیڈول ایک ہفتے کے اندر مرتب کریں۔