تحفظ پاکستان بل کی منظوری

سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی تحفظ پاکستان بل 2014 کی منظوری دے دی گئی،


Editorial July 03, 2014
جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

ISLAMABAD: سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی تحفظ پاکستان بل 2014 کی منظوری دے دی گئی، بل اب صدر کے دستخط کے بعد دو سال تک نافذ العمل رہے گا اور اس کے بعد خود بخود ختم ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور متحدہ نے اس بل کی حمایت اور جماعت اسلامی نے مخالفت کی جب کہ پی ٹی آئی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اس طرح جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔

اس بل کو پیش کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ ''دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اب شروع ہو چکا ہے' اس لیے سیکیورٹی فورسز کو قانونی اور آئینی تحفظ دینے کے لیے اس قانون کی فوری ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے خلاف کارروائی کرنے والوں سے نمٹا جا سکے، سینیٹ نے اس بل کو منظور کر لیا ہے' قومی اسمبلی بھی اسے متفقہ طور پر منظور کرے اور مسلح افواج کو یہ پیغام دیا جائے کہ پاکستانی قوم پاکستان کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے مسلح افواج کی پشت پر کھڑی ہے''

دہشت گردی کے حوالے سے ملکی قوانین پہلے سے موجود ہیں لیکن موجودہ حکومت نے یہ محسوس کیا کہ دہشت گردی کا عفریت جس تیزی سے بڑھ رہا اور ملکی سلامتی کے لیے چیلنج بن چکا ہے' اس سے نمٹنے کے لیے نئے قوانین کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے۔ حکومت نے جب تحفظ پاکستان بل کا مسئلہ اٹھایا تو بہت سی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی اور اسے آئین میں موجود انسانی حقوق کی شقوں سے متصادم قرار دیا۔بعد ازاں سیاسی جماعتوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو گیا کہ دہشت گردی پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں ملکی سلامتی دائو پر لگ سکتی ہے۔

اس لیے حکومت نے تحفظ پاکستان بل کی منظوری کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کرنے کا جب سلسلہ شروع کیا تو اسے مثبت جواب ملا ۔ وفاقی وزیر زاہد حامد نے بھی اسی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے بل سینیٹ میں پیش کرنے سے قبل ہدایت کی تھی کہ دوسری جماعتوں سے مشاورت کر کے اس بل کو اتفاق رائے سے پاس کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی سینیٹ میں نمایندگی نہیں ہے لیکن ان سے بھی تجاویز لی اور مشاورت کی گئی، اپوزیشن جماعتوں سے تفصیلی مذاکرات کیے گئے جس کے بعد سینیٹ نے بل کی متفقہ منظوری دی۔

اپوزیشن لیڈر خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ایوان بالا میں تحفظ پاکستان بل میں 21 ترامیم منظور ہوئیں۔ حکومت کا تحفظ پاکستان بل کی منظوری کے لیے تن تنہا فیصلہ کرنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل قابل ستائش ہے،اس طرح دہشت گردی کے خلاف کسی کارروائی میں حکومت کو دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہوگئی ہے۔ بل کو اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل چونکہ حکومت نے ہوم ورک مکمل کر رکھا تھا اس لیے بل پیش ہوتے ہی اس پر ووٹنگ چھ منٹ میں مکمل ہوگئی۔

اس بل کے مطابق حکومتی رٹ چیلنج کرنے والوں، فرقہ واریت، تشدد اور دہشت گردی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی، دہشت گردوں یا مشتبہ افراد کو گولی مارنے کا حکم گریڈ 15 اور اس سے اوپر کا سرکاری افسر دے سکے گا، گولی مارنے کا حکم سب سے آخری حربے کے طور پر استعمال ہوگا، اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بل میں 8 مختلف سیف گارڈز رکھے گئے ہیں، سرچ آپریشن کی ضرورت پر 2 دن کے اندر عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے وضاحت پیش کرنا ہوگی، ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کر کے 60 دن کر دی گئی ہے، کسی بھی متاثرہ فریق کو خصوصی عدالتوں کی جانب سے دی جانے والی سزا کو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے گا، سزا کی مدت 10 سال سے بڑھا کر 20 سال کر دی گئی ہے، ملزم کے خلاف موبائل فون کا ریکارڈ بھی قابل قبول شہادت ہو گا۔

حکومت نے بل دہشت گردی کے خاتمے اور ملک دشمن عناصر کے عزائم خاک میں ملانے کے لیے منظور تو کر لیا ہے مگر اس کے بارے میں بعض سیاسی جماعتوں کو تحفظات اب بھی موجود ہیں۔ بل کی منظوری کے لیے جلد بلائے گئے خصوصی اجلاس میں حکومت اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ اور اکثر ارکان ایوان سے غائب رہے۔ شیخ رشید احمد کا موقف تھا کہ بل میں دہشت گردی کی تعریف نہیں کی گئی۔ 15 ویں گریڈ کے افسر کے بجائے گولی چلانے کا حکم 17 ویں گریڈ کے افسر کے پاس ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جن حالات میں یہ بل لایا گیا ہے ہم اس کی مخالفت نہیں کرتے اس لیے ہم اس بل پر ووٹ نہیں دینگے بلکہ لاتعلق رہیں گے۔

خورشید احمد شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بل کی دو سال تک نگرانی کرے گی کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ حکومت نے یہ بل دہشت گردی کے خاتمے کے لیے منظور کیا ہے لیکن اسے اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ بے گناہ اور مظلوم لوگوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اگر کسی کارروائی کے دوران بے گناہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں تو عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے اور آج جو سیاسی جماعتیں اس بل کی حمایت کر رہی ہیں وہ بھی عوامی ردعمل اور بدلتا ہوا' ہوا کا رخ دیکھ کر اس بل کی مخالفت شروع کر سکتی ہیں اور حکومت کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے دہشت گردوں یا مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کے دوران بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔