کراچی چیمبر کا ترقیاتی منصوبوں کیلیے فنڈز منظوری کا خیر مقدم

شہر میں ترقیاتی منصوبے شروع ہونے سے تاجروعوام کا اعتماد بحال ہوسکے گا


Business Reporter July 12, 2014
آپریشن ضرب عضب کے ممکنہ ردعمل کے پیش نظر فوج تعیناتی ضروری ہے، عبداللہ ذکی فوٹو: فائل

کراچی چیمبر آف کامرس نے وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے کراچی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کے فنڈز کی منظوری دینے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں ترقیاتی منصوبے شروع ہونے سے تاجروعوام کا اعتماد بحال ہوسکے گا۔

کراچی چیمبر کے صدر عبداللہ ذکی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 15 ارب روپے کی خطیر لاگت کے گرین لائن بس سروس منصوبے کے ساتھ لیاری ایکسپریس وے کی تکمیل کے لیے 6 ارب روپے کی منظوری سے کراچی شہر کو ٹریفک جام کے سنگین مسائل سے چھٹکارہ پانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی، اسی طرح پانی سپلائی کے بڑے منصوبے کے فور کے لیے 12 ارب روپے کی منظوری سے کراچی میں پانی کی قلت پر قابو پایاجاسکے گا۔

وزیراعظم کی جانب سے42 ارب روپے کی لاگت کے ملیر موٹروے منصوبے(ایم نائن) پر کام شروع کرنے کے اعلان پر صدر کے سی سی آئی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم منصوبے کی تکمیل سے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم آپس میں لنک ہو جائیں گے جس کا فائدہ تاجر و صنعتکار برادری کوہو گا، منصوبے کی تکمیل سے دونوں بندرگاہوں کے درمیان مال کی ترسیل بلا تعطل ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کراچی، لاہور موٹروے پر ترقیاتی کام چند ماہ میں شروع کرنے کے اعلان کو بھی سراہا۔ اس منصوبے کے لیے وفاقی حکومت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو 55 ارب روپے فراہم کر دیے ہیں تاکہ منصوبے کے لیے زمین حاصل کی جاسکے۔

گڈانی پاور پارک اور پورٹ قاسم کے دو پاور پروجیکٹ کی جلد تکمیل کے احکام جاری کرنے پر صدر کے سی سی آئی نے اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی شہر میں شروع کیے جانے والے ان تمام ترقیاتی منصوبوں کے آغاز اور تکمیل کی تاریخوں کو واضح کیاجائے تاکہ تاجر برادری کے نمائندے بذات خود ان ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے سکیں اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن بنائی جا سکے۔ انہوںنے کہا کہ یہ بات خوش آئندہے کہ وزیراعظم نوازشریف کراچی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں نیز وزیراعظم نے گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاس میںبھی شہر کراچی کو ملکی معیشت کی شہ رگ قرار دیا۔

انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے تاجر برادری کو سہولتوں کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری وزیراعلیٰ سندھ کی شہر بالخصوص صنعتی زونز میں ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے سائٹ میں 270 ملین روپے کے مالیاتی پیکیج سے تعمیر ہونے والی دو سڑکوں کی تکمیل کے اقدام کو بھی سراہا اور کہا کہ دیگر صنعتی زونز میں بھی انفرااسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے۔ عبداللہ ذکی نے کراچی میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کے عزم پر اس امید کا اظہار کیا کہ شہر بھر میں مکمل امن قائم کرنے کے سلسلے میں ایک واضح اور سخت حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، اسٹریٹ کرائم، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ انہوں نے کراچی شہر کی تاجر وصنعتکار برادری کی جانب سے آئین کے تحت سول حکومت کی معاونت کے لیے کراچی بھر میں فوج کو تعینات کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ تمام پری پیڈ سموں کو بھی بند کیا جائے۔ صدر کے سی سی آئی نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے ممکنہ ردعمل کے پیش نظرکراچی میں فوج کی تعیناتی ناگزیر ہو گئی ہے، اسلام آباد، ملتان و دیگر شہروں میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوتے ہی فوج تعینات کر دی گئی تھی جبکہ کراچی کے زیادہ غیر محفوظ ہونے کے باوجود فوج تعینات نہیںکی گئی لہٰذا کراچی میں بھی فوج تعینات کی جائے۔