اسلام آباد:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ کے دوارن حکام نے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکس قیمت کا 54 فیصد ہے۔
سید نوید قمر کی زیر صدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں متعدد حکومتی بلز پر غور کیا گیا۔
اس دوارن موبائل فونز پر ڈیوٹیز کا معاملہ بھی زیر غور آیا، جس میں ٹیکس پالیسی آفس کے حکام نے بتایا کہ موبائل فونز پر 18 فیصد جی ایس ٹی اور رعایتی انکم ٹیکس عائد ہے ۔ مہنگے فونز پر ساڑھے 11 ہزار ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہے۔ 500 ڈالر والے فونز پر 76 ہزار ٹیکس عائد ہوتا ہے ۔
حکام نے بتایا کہ اگر یہ فونز مقامی طور پر تیار ہوں تو ان پر ٹیکس کم ہے ۔ درآمدی فونز پر ٹیکس قیمت کا 54 فیصد بنتا ہے ۔ مقامی طور پر تیار کردہ ایسے فونز پر ٹیکس کم ہو کر 25 فیصد بنتا ہے۔
سید نوید قمر نے کہا کہ فونز پر جب سیلز ٹیکس عائد ہے تو انکم ٹیکس کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں جدید ٹیکنالوجی کو آنے دیں، اس میں معیشت کی بہتری ہے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں موبائل فونز پر ٹیکس پالیسی واضح انداز میں پیش کی جائے۔
کمیٹی میں پارلیمانی بجٹ آفس بل 2026 غور کیلیے پیش
رکن کمیٹی جاوید حنیف نے اجلاس میں کہا کہ یہ بل مکمل طور پر حکومتی بل بن گیا ہے۔ کمیٹی کو بجٹ تجاویز دینے کا بھی اختیار ہونا چاہیے ۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ پارلیمانی بجٹ آفس کو مانیٹرنگ اور نظرثانی کا بھی اختیار ہونا چاہیے۔
اس موقع پر سید نوید قمر نے کہا کہ وزارت خزانہ پریشان نہ ہو اصل اختیار ان کا ہی رہنا ہے۔
کمیٹی میں بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پارلیمانی بجٹ آفس کی مالی ضروریات قومی اسمبلی پوری کرے گی ۔ بعد ازاں کمیٹی نے پارلیمانی بجٹ آفس کے قیام کی منظوری دیدی۔