آئی ڈی پیز کے ساتھ حکومت کا طرزعمل بے رحمانہ اور مجرمانہ ہے آصف زرداری

آئی ڈی پیزکی بحالی کیلیے جنگی بنیاد پراقدامات کیے جائیں، سابق صدر


آئی ڈی پیزکی بحالی کیلیے جنگی بنیاد پراقدامات کیے جائیں، سابق صدر فوٹو: فائل

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدرآصف علی زرداری نے آئی ڈی پیزکی جانب حکومتی بے توجہی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بحالی اوردیکھ بھال کے اقدامات جنگی بنیاد پرکیے جائیں۔

سابق صدرکے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سابق صدر نے حکومت کے طرز عمل کو بے رحمانہ اور مجرمانہ قراردیا ہے۔ آصف زرداری نے کہاکہ ایک طرف تو حکومت آئی ڈی پیزکونظرانداز کر رہی ہے اور دوسری جانب کالعدم عسکریت پسند گروپ اس مصیبت میں گرفتار لوگوں سے فیاضی کا سلوک کرکے ان پر اپنا فلسفہ مسلط کر رہی ہیں جس سے اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ یہ آئی ڈی پیز عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے ہمدرد بن جائیں۔ پاکستان ایسی صورتحال برداشت نہیں کرسکتا۔

انھوں نے 2009ء میں پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت کے دورمیں سوات میں ہونے والے آپریشن کے دوران آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف چند مہینوں کے اندر ہی ان آئی ڈی پیز کو ان کے گھروں میں دوبارہ بسا دیا گیا تھا۔ اب کوئی وجہ نہیں کہ اسی طرح شمالی وزیرستان سے آنے والے آئی ڈی پیزکی دیکھ بھال نہ کی جا سکے۔دریں اثنا پیپلزپارٹی نے آئی ڈی پیزکے لیے کئی ٹرک سامان کی پہلی کھیپ روانہ کردی۔اس کے بعد مزید سامان آنے والے دنوں میں بھیجاجائے گا۔

پیپلزپارٹی کے سینٹرل سیکریٹریٹ میں سامان بھیجنے کی تقریب میں سابق وزرائے اعظم یوسف رضاگیلانی اور راجا پرویز اشرف کے علاوہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید،پی پی پی خیبرپختونخوا کے صدر خانزادہ خان،فیصل کریم کنڈی،نذر گوندل،ندیم افضل چن،مرتضی ستی،زمرد خان،سینیٹر روبینہ خالد، ودیگربھی موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے سوات آپریشن کے بعد نقل مکانی کرنے والے25 لاکھ افرادکو90 دن کے اندر دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کیاجوکہ ایک ریکارڈ ہے۔وزیرستان کے بھائیوں کواس مشکل گھڑی میں تنہانہیں چھوڑیں گے۔

راجا پرویز اشرف نے کہاکہ آئی ڈی پیز ہمارے قومی ہیروہیں جن کی مددکرنے میں ہم کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔آخر میں سید یوسف رضاگیلانی نے آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی اور ملک کے استحکام کیلیے دعا کروائی۔ علاوہ ازیںقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید احمد شاہ نے کہاہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہو ئی تھی ہم نے مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک کامسودہ تیار کیا تو خوف زدہ ہوکر پرویز مشرف نے خود استعفی دے دیاہم نے باہر اس لیے جانے دیا کیونکہ اس کو استثنیٰ حاصل تھا پیپلزپارٹی حکومت میں شامل نہیں ہو رہی اپوز یشن میں بیٹھ کر جمہوریت کادفاع کریں گے پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ نے کہاکہ اگر ہم حکومت میں شامل ہوگئے تو جمہوریت کادفاع کون کرے گا،خورشیدشاہ نے کہاکہ اس معاملے پرنوازشریف کواعتمادمیں لینے یانہ لینے کاعلم نہیں۔

علاوہ ازیں لاہور میں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہاہے کہ چیف الیکشن کمیشنر کی تقرری کے معاملے پر تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے آج منگل کو وزیر اعظم نواز شریف سے رابطہ کروں گا۔تحریک انصاف اورن لیگ کی آپس کی جنگ اور تصادم سے گریز کریںدونوں کاتصادم کسی کے مفاد میں نہیںنقصان صرف جمہوریت کاہوگاانھوں نے کہاکہ ،عمران لانگ مارچ کافیصلہ واپس لیں ،وہ نہ مانیں تو حکومت درمیانی راستہ اختیار کرے،دونوں کو سمجھانے کی کوشش کرینگے۔

مقبول خبریں