عمارت مخدوش قرار ایس ایم بی گرلز کالج گارڈن کو خالی کرنے کا حکم

ایس ایم بی کالج کو پنجابی کلب کالج میں ضم کردیا گیا،کالج کی 1300 طالبات کا مستقبل خطرے سے دوچار


Staff Reporter July 16, 2014
ایس ایم بی فاطمہ جناح گرلزکالج کومخدوش قراردینے کے خلاف طالبات نشترروڈ گارڈن میں ا حتجاج کررہی ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

TOKYO: ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز نے گارڈن میں قائم طالبات کے واحد تاریخی کالج ایس ایم بی فاطمہ جناح گورنمنٹ گرلز کالج کو فوری طورپرخالی کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم نے ایس ایم بی فاطمہ جناح گورنمنٹ گرلز کالج کوگورنمنٹ ڈگری گرلز کالج پنجابی کلب لائٹ ہائوس میں ضم کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے پنجابی کلب کالج کا نام تبدیل کرکے اسے ایس ایم بی فاطمہ جناح کالج کردیا ہے ، تمام اقدام ایس ایم بی فاطمہ جناح کالج کی عمارت کو اچانک مخدوش قراردیے جانے کی بنیاد پرکیا گیا ہے، محکمہ تعلیم کے جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن میں کالج کی عمارت مخدوش قرار دی گئی ہے تاہم عمارت کومخدوش قراردیے جانے کے حوالے سے سرکاری قواعد وضوابط پورے نہیں کیے گئے، محکمہ تعلیم کے اقدام سے کالج انتظامیہ، طالبات اور والدین میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔

طالبات کا کہنا ہے کہ کالج کی عمارت کو مخدوش قراردیے جانے کے محرکات میں عمارت پر ممکنہ قبضہ کے عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں، کالج کی پرنسپل پروفیسرسطوت نے عمارت مخدوش قراردینے کے فیصلے پر کہا کہ کالج کی عمارت اس قابل ہے کہ یہاں مزید100سال تک تدریس کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے،طالبات اور ان کے والدین، سندھ پروفیسر اینڈ لیکچررایسوسی ایشن (سپلا) نے محکمہ تعلیم کی جانب سے نوٹیفکیشن کے اجرا پر احتجاج شروع کردیا ہے۔

منگل کو سپلا نے کالج کی طالبات اور ان کے والدین کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ کیا اور ڈائریکٹرجنرل کالجز پروفیسر ناصر انصار، اسسٹنٹ ڈائریکٹرکوآرڈی نیشن حمید خان اورسیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہوکی جانب سے جاری کیے گئے 3 نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کیا، سپلا کے رہنما پروفیسر سید علی مرتضیٰ، کراچی کے صدر پروفیسر فیروزالدین صدیقی نے کہاکہ سندھ سے تعلیم کو ختم کرنے کی سازش ناکام بناکر تعلیمی ادارے کی عمارت نجی پارٹی کے سپرد نہیں ہونے دیں گے۔

ایس ایم بی فاطمہ گرلز ڈگری کالج کو خالی کرانے کے حکم سے1300 طالبات کا مستقبل خطرے میں پڑچکا ہے، تعلیم دشمن عناصر مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے نام سے منسوب گرلز ڈگری کالج کی عمارت کو مخدوش قرارا دینے کے بہانے مبینہ طور پراسے نجی ادارے کو دینا چاہتے ہیں اس عمل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، وزیراعلیٰ، وزیر تعلیم، چیف سیکریٹری تعلیم دشمن حکم واپس کرواکر1300 طالبات اور ان کے والدین کو پریشانی سے بچائیں۔