بجٹ کے 15 روز بعد ہی اشیا پر ڈیوٹی اور ٹیکسز میں رد و بدل

صابن اور خام مال پرٹیکس چھوٹ ختم، شیمپو اور ویکیوم فلاسک پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی


Irshad Ansari July 17, 2014
صابن اور خام مال پرٹیکس چھوٹ ختم، شیمپو اور ویکیوم فلاسک پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی۔ فوٹو؛فائل

CAIRO: وفاقی حکومت نے بجٹ کے 15روز بعد ہی ایس آراوز کے ذریعے ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں ردوبدل شروع کردیا ہے جس کے تحت ایف بی آر نے صابن اور صابن کی تیاری میں استعمال ہونیوالے خام مال کی درآمد پر دی جانے والی کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی ہے جبکہ شیمپو، ویکیوم فلاسک سمیت دیگر اشیا کی درآمد پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی ہے۔

ایف بی آر کی طرف سے 2 ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں۔ پہلے نوٹیفکیشن نمبر 580(I)/2014 کے ذریعے 11جون 2008 کو جاری ہونیوالے ایس آر او نمبر 559(I))/2008 میں ترمیم کی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ ایف بی آر نے آزاد جموں و کشمیر کے لیے ٹائلٹ سوپ (صابن) اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد پر دی جانے والی نہ صرف کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی ہے بلکہ درآمد کے لیے کسٹمزڈیوٹی کی شرح بھی 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کردی گئی ہے جبکہ سیلز ٹیکس مروجہ شرح کے مطابق وصول کیا جائے گا۔

ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ دوسرے ایس آر او نمبر 631(I)/2014 کے ذریعے 26 جون2014کو جاری کردہ ایس آر او نمبر658(I)/2014 میں ترمیم کردی گئی ہے اور اس ترمیم کے ذریعے شیمپو اور ویکیوم فلاسک پر5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ٹیکسوں میں ردوبدل اور ٹیکسوں کا نفاذ پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوا کرے گا لیکن بجٹ کے نفاذ کے 15 دن بعد ہی 2 ترمیمی ایس آر اوز جاری کیے گئے ہیں جن کے ذریعے ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں چھوٹ بھی واپس لی گئی ہے اور ریگولیٹری ڈیوٹی بھی نافذ کی گئی ہے۔