غزہ پر اسرائیلی جارحیت جاری

اسرائیل اور حماس کے درمیان یکطرفہ جنگ بندی کی کوشش ناکام ہونے پر صہیونی فوج نے غزہ میں دوبارہ ہوائی حملے شروع کردیےہیں


Editorial July 18, 2014
اسرائیلی طیاروں کی وحشیانہ بمباری نے بدھ کو چار بچوں سمیت اکیس فلسطینیوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ فوٹو؛ اے ایف پی

اسرائیل اور حماس کے درمیان یکطرفہ جنگ بندی کی کوشش ناکام ہونے پر صہیونی فوج نے غزہ میں دوبارہ ہوائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیلی طیاروں کی وحشیانہ بمباری نے بدھ کو چار بچوں سمیت اکیس فلسطینیوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ گزشتہ دس روز سے جاری بمباری کے نتیجے میں فلسطینی شہادتوں کی تعداد سوا دو سو ہو گئی ہے جب کہ ڈیڑھ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور متعدد گھروں کو میزائل حملوں سے مسمار کر دیا گیا ہے مگر عالمی ضمیر اس طرح مذمت نہیں کر رہا جیسا کہ حق بنتا ہے۔ اور مشرق وسطیٰ کے ہمسایہ مسلمان ممالک مہر بہ لب ہیں۔

ادھر امریکی صدر بارک اوباما نے حسب روایت ایوان صدر وہایٹ ہاوس میں اسلامی ملکوں کے سفیروں کے لیے افطار پارٹی کا اہتمام کیا جس میں حالیہ اسرائیل فلسطین تنازعے کا سارا الزام نہتے فلسطینیوں پر عاید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ سے اسرائیل پر گھریلو ساخت کے میزائلوں سے حملے ہوتے ہیں جس سے اسرائیلی شہری نشانہ بنتے ہیں اور کوئی ملک اپنے شہریوں کی ہلاکتوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں اسرائیل پر راکٹ حملے ناقابل معافی ہیں' البتہ فلسطینیوں کا جاں بحق اور زخمی ہونا ایک المیہ ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اس جارحیت میں اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے۔

غزہ کی پٹی پر فلسطینی آبادی کا تخمینہ صرف ایک لاکھ نفوس کے لگ بھگ لگایا گیا ہے۔ نئی لڑائی شروع ہونے کے بعد سے تیس ہزار سے زاید فوجیوں کو طلب کیا جا چکا ہے جب کہ مزید آٹھ ہزار کو طلب کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کا سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔ اس وقت اسرائیلی لڑاکا طیارے ہی بمباری نہیں کر رہے بلکہ اس کی گن بوٹس بھی سمندر سے غزہ پر گولہ باری کر رہی ہیں جس کی زد میں ساحل سمندر پر کھیلنے والے چھوٹے بچے بھی آ جاتے ہیں جیسا کہ بدھ کو چار بچوں کی ہلاکت ہوئی۔

اسرائیل نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ سویلینز کی ہلاکتیں نہیں چاہتا مگر غزہ سے ہونے والے راکٹ حملے گنجان آبادی کے علاقے سے ہوتے ہیں اس لیے وہاں مجبوراً بمباری کرنی پڑتی ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں بدھ کی سہ پہر سمندر کے کنارے جمع بچوں اور لڑکوں پر پہلا حملہ کیا اور اس کے بعد جب وہ لوگ جانیں بچانے کے لیے دوڑ رہے تھے فضائیہ نے دو مرتبہ پھر انھیں نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں چار بچے ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ دریں اثنا صہیونی فضائیہ نے جنوبی شہر خان یونس پر بھی بمباری کی ہے۔ ایک گھر پر ٹینک سے کی جانے والی گولہ باری سے انیس سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔

فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق شہید ہونے والوں میں اسی فیصد شہری ہیں۔دوسری طرف اسرائیل نے شمالی کے بعد مشرقی غزہ میں بسنے والوں ہزاروں فلسطینیوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ لوگ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے قبل علاقے سے نکل جائیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ مصر کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود اسرائیل پر راکٹ حملوں کے بعد ان کے پاس فضائی حملے جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

ادھر سعودی عرب کے نائب وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں میں معصوم شہریوں کا قتل عام کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا ریاض اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کونسل سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ چوتھے جنیوا معاہدے کے تحت فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم کی روک تھام کے لیے موثر کردار ادا کریں۔

کابینہ کے اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں غزہ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کا وزراء خارجہ اجلاس بلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ دوسری طرف پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسرائیل کے سفاک عزائم کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور بولیویا کے صدر نے اسرائیلی حملوں کو نسلی تعصب سے تعبیر کرتے ہوئے اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی عرب ہو' ایران ہو' پاکستان ہو یا کوئی اور ملک' ان کے مذمتی بیانات اور یہاں ہونے والے مظاہروں کا اسرائیل کی حکومت پرکوئی اثر نہیں ہو گا' عالم اسلام کو اس حوالے سے کوئی قابل عمل پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔