ملائیشیا کے ایک اور مسافر طیارے کی المناک تباہی

ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے طیارہ کی تباہی کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے


Editorial July 18, 2014
طیارے پر حملے کی خبر سے دھچکا لگا۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملائشین وزیر اعظم کو ٹیلیفون کر کے طیارہ حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے،فوٹو:رائٹرز

RAWALPINDI: ملائیشیا کا مسافر طیارہ یوکرین میں گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں عملے کے ارکان سمیت تین سو کے لگ بھگ مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔ روسی خبررساں ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ طیارے کو زمین سے میزائل داغ کر تباہ کیا گیا۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے طیارہ کی تباہی کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی ملائیشیا کا ایک مسافر طیارہ دوران پرواز پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا تھا جس کی کئی دن تلاش جاری رہی تاہم بعد ازاں پتہ چلا کہ وہ بحر ہند میں کسی دور دراز مقام پر گر کر سمندر میں غرق ہو گیا ہے۔

اس طیارے کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ وہ طیارہ کوالالمپور سے بیجنگ جا رہا تھا اور اس کے مسافروں کی اکثریت چینی باشندوں کی تھی جب کہ گزشتہ روز تباہ ہونے والا ملائشین طیارے میں عملے کے 15 ارکان سمیت 295 افراد سوار تھے جو ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہا تھا کہ روسی سرحد کے قریب یوکرین میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اس میں بھی چین کے باشندوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ اس طیارے میں 153 چینی مسافر سوار تھے۔

یوکرینی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طیارے کو حکومت مخالف باغیوں نے مشرقی یوکرین میں 10 کلومیٹر بلندی پر میزائل داغ کر نشانہ بنایا، یہ علاقہ روس نواز باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔ لیکن یوکرینی باغیوں نے ملائشین طیارہ مار گرانے کی تردید کر دی ہے۔ باغی تنظیم کے سربراہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ طیارہ یوکرینی سیکیورٹی فورسز نے گرایا ہے اور یہ کہ یوکرین کے فوجی طیارے نے ملائشین طیارے کو نشانہ بنایا۔ ادھر اقوام متحدہ میں روس کے مندوب نے ملائشین طیارے کو مار گرانے کا الزام مسترد کر دیا ہے۔

ملائشین ایئر لائن نے بتایا کہ پرواز ایم ایچ 17 ایمسٹرڈیم سے اڑان بھرنے کے بعد مسلسل رابطے میں تھی تاہم یوکرین کی حدود میں داخل ہونے کے بعد طیارے کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ ادھر ہالینڈ، روس، برطانیہ، فرانس، امریکا، ترکی اور جرمنی نے اپنے طیاروں کی پرواز کے لیے یوکرین کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور امریکا کے صدر اوباما نے طیارے کی تباہی کو افسوسناک قرار دیا اور ملائیشیا کو تحقیقات میں معاونت کی پیشکش کی ہے۔

واضح رہے اس سے قبل رواں سال مارچ میں کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا ملائیشین ایئرلائن کا طیارہ 239 مسافروں سمیت پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا تھا جس کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ تاہم اقوام متحدہ میں روسی مندوب نے ملائیشین طیارے کو مار گرانے کا الزام مسترد کر دیا۔ جس علاقے میں طیارہ گرتے دکھایا گیا وہاں یوکرائن کی فوج روس نواز علیحدگی پسندوں سے نبردآزما ہے۔ یوکرائنی علیحدگی پسندوں کے رہنما الکسندر بروڈی نے کہا ہے یہ طیارہ یوکرائنی فورسز نے گرایا ہے۔ ملائشین وزیر اعظم نجیب رزاق نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طیارے کے حادثے پر رنجیدہ ہیں۔

طیارے پر حملے کی خبر سے دھچکا لگا۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملائشین وزیر اعظم کو ٹیلیفون کر کے طیارہ حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اوباما کو بھی حادثے کے حوالے سے بتایا۔ اوباما نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ ملائیشیا کے گزشتہ چار ماہ میں یکے بعد دیگرے دو طیاروں کی تباہی کسی گہری سازش کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے جس سے چھ سو کے لگ بھگ مسافر بھی ہلاک ہو گئے۔ اگر یہ سازش یا کوئی دہشت گردی ہے تو پھر بھی اس کی تحقیقات ہونی چاہیے' دنیا میں ہوائی سفر کو محفوظ بنانا اقوام عالم کا فرض ہے' دنیا کی طاقتور اقوام کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے کسی قسم کی مصلحت کو آڑے نہ آنے دیں اور ملایشیئن طیارے کی تباہی کے اسباب تلاش کریں تاکہ دنیا کے سامنے اصل حقائق سامنے آ سکیں۔