ملکی برآمدات کے حوالے سے پلاننگ کمیشن اور وزارت تجارت کے اندازے غلط ثابت

گزشتہ مالی سال کے آغاز پر پلاننگ کمیشن نے 26.59 ارب،وزارت تجارت نے برآمدات 31 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا تھا


Business Reporter July 19, 2014
بدامنی و توانائی بحران موجب، درآمدات 0.36 فیصد اضافے سے 45 ارب 11 کروڑ 30 لاکھ ڈالر، تجارتی خسارہ 2.48 فیصد کمی سے 19 ارب 98 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا۔ فوٹو: فائل

پلاننگ کمیشن اور وفاقی وزارت تجارت کے اندازے درست ثابت نہ ہوسکے اور گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی برآمدات 2.75 فیصد اضافے سے 25 ارب 13 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک محدود رہیں۔

مالی سال کے آغاز پر پلاننگ کمیشن نے برآمدات 26.59 ارب ڈالر جبکہ وفاقی وزارت تجارت نے تین سالہ ایکسپورٹ پالیسی فریم ورک کے تحت برآمدات 31 ارب ڈالر تک بڑھ جانے کا ہدف مقرر کیا تھا تاہم ملک میں جاری بدامنی اور توانائی کے بحران کے سبب برآمدات 25ارب 13کروڑ 20لاکھ ڈالر تک محدود رہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2013-14 کے دوران برآمدات میں 2.75 فیصد جبکہ درآمدات میں 0.36 فیصد اضافہ عمل میں آیا۔ روپے کے لحاظ سے برآمدات 9.26 فیصد جبکہ درآمدات 6.54 فیصد زائد رہیں۔ مالی سال 2013-14میں درآمدات کی مالیت 45ارب 11 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہی جو مالی سال 2012-13 میں 44ارب 95کروڑ ڈالر رہی تھی۔ درآمدات میں اضافے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہنے کے سبب مالی سال 2013-14کا تجارتی خسارے میں 2.48 فیصد کمی واقع ہوئی اور تجارتی خسارہ 19ارب 98کروڑ 10لاکھ ڈالر رہا۔

مالی سال 2012-13میں تجارتی خسارہ 20ارب 49کروڑ ڈالر رہا تھا۔ اعدادوشمار کے مطابق جون2013کے مقابلے میں جون 2014کے دوران برآمدات 6.76فیصد کمی سے 2ارب 2کروڑ 70لاکھ ڈالر رہیں جبکہ درآمدات 10.10 فیصد اضافے سے 4ارب 33کروڑ 80لاکھ ڈالر رہیں۔ اس طرح مالی سال کے آخری مہینے جون 2014میں تجارت کو 2ارب 31کروڑ 10لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ خسارہ جون 2013کے مہینے میں درپیش ایک ارب 76کروڑ 60لاکھ ڈالر کے خسارے سے 30.86 فیصد زائد رہا۔ مئی 2014کے مقابلے میں جون 2014کے دوران برآمدات میں 4.25فیصد کمی جبکہ درآمدات میں 18فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مئی کے مقابلے میں جون کے مہینے میں تجارتی خسارہ 48.33 فیصد زائد رہا۔