غزہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال

اسرائیلی فوج نے غزہ پر دس روز سے جاری فضائی حملوں کے بعد زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے


Editorial July 19, 2014
جمعے کو اسرائیلی طیاروں اور بحری جہازوں کی بمباری کے بعد صیہونی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں نے غزہ اور رفاہ کے علاقوں پر چڑھائی کر دی۔فوٹو:فائل

اسرائیلی فوج نے غزہ پر دس روز سے جاری فضائی حملوں کے بعد زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے' جمعے کو اسرائیلی طیاروں اور بحری جہازوں کی بمباری کے بعد صیہونی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں نے غزہ اور رفاہ کے علاقوں پر چڑھائی کر دی۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور گھروں پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں مزید 48 فلسطینی شہید ہو گئے۔ گزشتہ 11 روز سے جاری اسرائیلی جارحیت میں شہید فلسطینیوں کی تعداد تین سو تک پہنچ گئی ہے جب کہ دو ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔ رفاہ میں اسپتال پر گولہ باری سے چار مریض بھی چل بسے۔ غزہ پر زمینی کارروائی کے دوران ایک اسرائیلی فوجی بھی مارا گیا۔ امریکا شروع سے ہی غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما اور یورپی یونین نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یعنی اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے' وہ جائز ہے۔

اسرائیل جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے جب کہ فلسطینیوں کے پاس جنگی طیارے ہیں نہ گن بوٹس ' نہ ہی ٹینک اور توپیں لیکن پھر بھی امریکا اور یورپ فلسطین کو جارح اور اسرائیل کو مظلوم قرار دے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے اتحادی اسرائیلی وزیراعظم کو فون کر کے کہا کہ امریکا اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتا ہے تا کہ تل ابیب پر راکٹ حملے روکے جائیں۔ کچھ عرصہ قبل فلسطینی لڑکے اسرائیلی ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کا مقابلہ غلیلوں اور سنگباری سے کیا کرتے تھے تب بھی وہ دہشتگرد تھے تاہم بعد ازاں انھوں نے لوہے کے پرانے پائپوں میں بارود بھر کر چلانا شروع کر دیا جس پر اسرائیل کا رد عمل ایسا تھا گویا فلسطین نے ایٹمی طاقت حاصل کر لی ہو۔ صدر اوباما کا کہنا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کا حالیہ زمینی آپریشن سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے ہے۔ صدر اوباما نے غزہ کی صورت حال پر تشویش کا بھی اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ اسرائیل آپریشن کے دوران شہریوں کی جانوں کے ضیاع کو کم کرنے کے رویے کو جاری رکھے گا۔ دوسری جانب یورپی یونین نے حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

ترک وزیراعظم طیب اردگان نے مصری صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنرل سیسی غیر قانونی اور غاصب حکمراں ہیں اور قاہرہ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ سیسی دیگر حکمرانوں سے مختلف نہیں ہیں اور مصر کے موجودہ حکمرانوں نے غزہ جانے والی سرنگوں کو بند کر کے وہاں جانے والی امداد کو روک رکھا ہے۔ ادھر حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی دلدل میں دھنس جائے گا۔ ہماری عورتوں اور بچوں کو شہید کیا جا رہا ہے' تل ابیب کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ دوسری طرف کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اسرائیلی وزیراعظم اور ان کے فلسطینی ہم منصب محمود عباس کو فون کر کے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس قاہرہ سے ترکی روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی کوشش کریں گے۔ غزہ کی صورت حال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے اور فلسطینیوں کی ہلاکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے' بلاشبہ اسرائیلی فوجیں ظلم کر رہی ہیں لیکن فلسطینیوں کی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کوئی ایسا لائحہ عمل طے کریں جس سے بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام رک سکے' مسلم ممالک کے حکمران اپنا کھیل کھیل رہے ہیں' امریکا' یورپی یونین اور دیگر بڑی طاقتیں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں' اس صورت حال میں فلسطینیوں کی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر ایسی حکمت عملی اختیار کرے جس سے فلسطینیوں کا قتل عام رک سکے۔