انگلش ٹیم کی قیادت چھوڑنے کیلیے الیسٹر کک پر دباؤ بڑھ گیا

مائیکل وان نے کک سے کپتانی واپس لینے کا مطالبہ کردیا، مزید دباؤ برداشت نہیں کرسکتے، بائیکاٹ اور اسٹیورٹ کی رائے


Sports Desk July 21, 2014
مائیکل وان نے کک سے کپتانی واپس لینے کا مطالبہ کردیا، مزید دباؤ برداشت نہیں کرسکتے، بائیکاٹ اور اسٹیورٹ کی رائے. فوٹو؛اے ایف پی/فائل

الیسٹر کک کی کپتانی پر شدید نکتہ چینی جاری ہے، سابق آسٹریلین کپتان اسٹیو وا انھیں فطری مہارت استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں۔

سابق انگلش کپتان مائیکل وان کی جانب سے ای سی بی کو کک سے کپتانی واپس لینے کا مشورہ ، کپتان کی حیثیت سے9 ٹیسٹ میچز میں کوئی کامیابی نہ پانے کے ساتھ 26 اننگز میں سنچری بھی نہیں بناسکے ہیں ، بائیکاٹ اور اسٹیورٹ کا کہنا ہے کہ کک قیادت کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتے ۔ تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان الیسٹر کک کی کپتانی پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ، ساتھ ہی انھیں زبردست تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے ، گذشتہ 9 ٹیسٹ میچز میں نہ تو وہ کوئی میچ جیت سکے اور نہ ہی سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے۔

ان کی اس ناقص کارکردگی پر سابق آسٹریلین کپتان اسٹیو وا محسوس کرتے ہیں کہ کک کو اپنی فطری مہارت استعمال کرنے کی کوشش کے ساتھ تبصرہ نگاروںکیلیے کپتانی سے لاتعلقی کا اعلان کردینا چاہیے۔ رواں سمر آسٹریلیا کے ہاتھوں انگلینڈ کی 5-0 ایشز وائٹ واش کے بعد شین وارن کی جانب سے انھیں 'بورنگ' قرار دینے کے باوجود وا کو یقین ہے کہ نئی کوشش ان کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہے گی ۔ وا نے لارڈز پر بھارت کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں کک کی حکمت عملی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے جب لیام پلنکٹ کو ایک ایسی پچ پر مہمانوں کی باؤنسرز کے ساتھ تواضع کیلیے کہا گیا تھا جہاں غیر معمولی موومنٹ پائی جاتی تھی، ان کی یہ حرکت خود ان کیلیے نقصان دہ ثابت ہوئی اور بھارت نے 145 پر 7 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد مجموعی طور پر 295 رنز اسکور کرلیے تھے۔

مارک وا کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں جمعرات کی ہونیوالی غلطی ان کی تبصرہ نگاروں کیلیے کپتانی کی وجہ سے ہوئی ہے،اسٹیو وا کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے کک نے اس ترکیب کو غلط وقت استعمال کیا ۔ ادھر مائیکل وان نے لارڈز میں بھارت کیخلاف ٹیسٹ میں کک کی ناقص تدبیروں پر تنقیدکرتے ہوئے ای سی بی سے ان سے کپتانی واپس لینے کی تجویز پیش کی ہے۔ 'ڈیلی ٹیلیگراف' میں اپنے مضمون میں وہ کہتے ہیں کہ کک کے ساتھ ہم ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں وہ کرکٹ سے لطف اندوز نہیں ہورہا ہے، جس کی وجہ سے ٹیم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

جیف بائیکاٹ اور الیک اسٹیورٹ جیسے سابق انگلینڈ پلیئرز کا کہنا ہے کہ کک قیادت کی دبائو پرقابو نہیں پاسکتا ہے۔ لارڈز ٹیسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے وان کہتے ہیں کہ انگلینڈ کو بھارت کو 150 پر آؤٹ کرکے 300 رنز بناکر ٹیسٹ جیتنے کی پوزیشن پر آنا چاہیے تھا لیکن کک نے اس سلسلے میں کوئی کوشش نہیں کی، ان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ خود ایک برس سے زیادہ کی مدت میں گیم کو حریفوں کے سپرد کرنے کا قصور وار ہے ، اس کا آغاز نیوزی لینڈ سے ہوا جو آسٹریلیا تک جاری رہا اور سری لنکا کے خلاف نقصان اٹھانا پڑا۔