بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ

بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سیالکوٹ کے چاروا سیکٹر میں فائرنگ کی اور مارٹر کےگولےپھینکے


Editorial July 22, 2014
بھارتی بی ایس ایف نے بلا اشتعال فائرنگ کی، ترجمان پنجاب رینجرز فوٹو: اے ایف پی/فائل

بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سیالکوٹ کے چاروا سیکٹر میں فائرنگ کی اور مارٹر کے گولے پھینکے۔ اس فائرنگ سے ایک پاکستانی دیہاتی شہید ہوا جب کہ چار افراد زخمی ہو گئے' ان میں تین خواتین شامل ہیں' پاک رینجرز نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے بعد بھارتی فائرنگ بند ہو گئی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے دیہات ہرپال' ٹھٹھی خورد' کیریال اور جروال پر فائرنگ اور شیلنگ کی۔

پنجاب رینجرز کے ترجمان کے اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی بی ایس ایف نے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ اس وقت جب کہ پاک فوج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی مشکل آپریشن کر رہی ہے' ان حالات میں بھارت فوج اور بی ایس ایف کو غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے' اگلے روز سیالکوٹ سیکٹر میں جو واقعہ ہوا ہے' یہ صورت حال کو بگاڑنے کی کوشش ہے' بھارتی حکومت اور بھارت کی اعلیٰ فوجی کمان کو اس واقعہ کا نوٹس لینا چاہیے۔

دہشت گردی اس وقت اس خطے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے' پاکستان کی فوج اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے' ایسے حالات میں بھارتی فوج اگر غیر ذمے داری کا ثبوت دے کر بین الاقوامی سرحدوں پر حالات خراب کرے گی' تو اس سے حالات خراب ہوں گے ۔اخبارات میں شایع ہونے والی خبر کے مطابق کشیدہ صورت حال کے باعث پنجاب رینجرز نے فلیگ میٹنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی فوج کو اس پر توجہ دینا چاہیے۔ فلیگ میٹنگ بلانے میں کوئی حرج نہیں ہے' اس میٹنگ میں سارے مسئال حل ہو سکتے ہیں۔

ہو سکتا کہ کسی غلط فہمی پر یہ واقعہ ہوا کیونکہ سرحدوں پر اکثر اوقات ایسا ہو جاتا ہے لیکن ضروری یہ ہے کہ معاملے کی جڑ تک پہنچا جائے۔ اگر بی ایس ایف اور رینجرز کے درمیان فلیگ میٹنگ ہو گی تو ساری صورت حال سامنے آ جائے گی۔ بہر حال اس موقع پر بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کرے اور حالات کو کشیدہ ہونے سے بچائے کیونکہ جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ ادھر بھارتی حکومت دھڑا دھڑ اسلحہ خرید رہی ہے' بھارتی حکومت کے اس طرز عمل سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

اگلے روز بھی ایک خبر شایع ہوئی ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنی دفاعی صنعت میں بہتری کے لیے نئے ہتھیار خریدنے کے لیے تقریباً تین ارب پچاس کروڑ ڈالر کی تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔ ان تجاویز کی منظوری بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلے کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئی ہے۔ جب سے نریندر مودی برسراقتدار آئے ہیں' ان کی تمام تر توجہ بھارت کی دفاعی تیارویوں پر ہے۔

ان کی سوچ یہ ہے کہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکاجائے اور پاکستان کو محدود رکھاجائے' اس سوچ کے تحت موجودہ بھارتی حکومت کی اولین ترجیح بھارتی فوج کو جدید اسلحہ سے لیس کرنا ہے' شاید اسی سوچ کا اثر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس پر ہوا ہے جس کے تحت وہ سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کر رہی ہے۔ بہر حال پاکستان کو بھارتی دفاعی تیاریوں پر نظر رکھنی چاہیے اور اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔