امریکا کے خصوصی نمایندے کی اہم ملاقاتیں

امریکا کے نمایندہ خصوصی برائے پاکستان و افغانستان جیمز ڈوبنز نے اگلے روز پاکستان میں خاصا مصروف دن گزارا۔


Editorial July 22, 2014
سرتاج عزیز نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری اور استحکام کے لیے جیمز ڈوبنز کی کاوشوں کی تعریف کی ہے، دفترخارجہ فوٹو: اے ایف پی

امریکا کے نمایندہ خصوصی برائے پاکستان و افغانستان جیمز ڈوبنز نے اگلے روز پاکستان میں خاصا مصروف دن گزارا۔ انھوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز' وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے الگ الگ ملاقات کی ہے۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے تناظر میں دیکھا جائے تو جیمز ڈوبنز کی یہ ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور اس کے آنے والے دنوں میں دور رس اثرات برآمد ہوں گے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ سرتاج عزیز نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری اور استحکام کے لیے جیمز ڈوبنز کی کاوشوں کی تعریف کی ہے۔ دونوں طرف سے اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط بنایا جائے گا اور اس کے ساتھ افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کی صورت حال پر مشاورت کو بھی بہتر انداز میں جاری رکھا جائے گا تاکہ علاقے میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی جیسے اہم اہداف حاصل ہو سکیں۔

پاکستان اور امریکا سرد جنگ کے زمانے سے ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔ افغانستان میں بھی دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے تعاون کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں اتار چڑھائو آتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو سکے۔ جب سابق سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں اور وہاں افغانوں نے مزاحمت کا آغاز کیا تو پاکستان نے افغانوں کا ساتھ دیا اور امریکا بھی ان کی مدد کے لیے آیا' امریکا نے سوویت یونین کی تحلیل اور وہاں سوشلسٹ نظام کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

سوویت یونین کی تحلیل کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی' اس میں امریکا کچھ عرصے کے لیے افغانستان اور پاکستان سے قدرے لاتعلق ہو گیا لیکن نائن الیون کے واقعہ کے بعد صورت حال میں ایک بار پھر تبدیلی آئی' امریکا نے افغانستان میںطالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائی کی۔ یوں دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر جنگ کا آغاز ہوا' اس جنگ میں بھی پاکستان امریکا کااہم اتحادی بنا اور دونوں ملکوں کے درمیان یہ تعاون کسی نہ کسی حوالے سے آج بھی جاری ہے۔ اب پاکستان شمالی وزیرستان میںدہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے۔

امریکا بھی خاصے عرصے سے یہ مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ امریکا کے کہنے پر یہ آپریشن نہیں کرسکتا تھا۔ ادھر شمالی وزیرستان میں موجود دہشت گردگروپوں نے پاکستان میں ہلاکت خیز کارروائیاں شروع کیے رکھیں' شمالی وزیرستان بتدریج پورے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کا مرکز بن گیا' میاں نواز شریف برسراقتدار آئے تو ان کی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا۔ ملک کی تمام سیاسی و دینی جماعتوں کو اس امر کی حمایت حاصل تھی لیکن یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔

دہشت گرد گروپ بدستور پاکستان میں کارروائیاں کرتے رہے۔ یوں مجبور ہو کر پاکستان کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کرنا پڑا جو کامیابی سے جاری ہے' اس آپریشن کی حتمی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان میں موجود اتحادی فوجیں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ طالبان کی مرکزی قیادت اب بھی افغانستان میں موجود ہے۔ اس قیادت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے صوبے مورستان اور کنڑ میں موجود ہو سکتی ہے۔

امریکا افغانستان کی حکومت کا اتحادی ہے' ایسی صورت میں امریکا کی ذمے داری ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت پر دبائو ڈالے کہ وہ پاکستان مخالف قوتوں کی سرپرستی کرنے سے باز آئے جب کہ افغانستان میں موجود اتحادی فوجیں وہاں سے ہونے والی دراندازی روکیں اور سرحد کو سیل کریں تاکہ پاکستان سے کوئی دہشت گرد فرار ہو کر افغانستان نہ جا سکے اور وہاں سے کوئی پاکستان میں داخل نہ ہو سکے۔ ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر آپریشن ضرب عضب کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان میں استحکام اور امن قائم ہو جائے گا۔

امریکی فوجوں کا افغانستان سے پرامن انخلا بھی اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان شمالی وزیرستان میں آپریشن کلین اپ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جیمز ڈوبنز کا دورہ انتہائی اہم ہے اور وہ یقیناً امریکی عہدیداروں کو صورت حال سے آگاہ کریں گے۔امریکی قیادت کو اس خطے میں اپنی پالیسی زمینی حقیقتوں کو سامنے رکھ کر ترتیب دینی چاہئیں۔ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان قیادت بھی حقیقت کا ادراک کرے ۔امریکا اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔