بجلی بریک ڈاؤن حل کیا ہے

یہ درد انگیز صورتحال ہے کیونکہ ملک پہلے سے توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے


Editorial July 27, 2014
یہ درد انگیز صورتحال ہے کیونکہ ملک پہلے سے توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی میں جمعے کی صبح بجلی گھر یکے بعد دیگرے ٹرپ کر گئے، نتیجے میں کراچی کئی گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہا۔ ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر اور معاشی ہب میں 5 گزشتہ برسوں کے دوران یہ تیسری مرتبہ بڑا بریک ڈاؤن ہوا ہے جب کہ اندرون سندھ کے متعدد اضلاع بھی اس کی لپیٹ میں آئے جہاں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل رہی۔

بنیادی سوال بجلی کے مستحکم، شفاف اور فالٹ فری نظام کے یقینی ہونے کا ہے جب کہ توانائی بحران کے وسیع تر تناظر میں پورا ملک لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہے۔ اس لیے یہ دلیل یا بحث تحقیق طلب ہے کہ نیشنل گرڈ ٹرانسمیشن سسٹم میں کراچی کو ملنے والے 650 میگا واٹ منقطع ہونے سے کراچی میں بجلی کا نظام مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا اور شہر قائد سحری کے بعد شام تک بریک ڈاؤن کا شکار رہا۔

یہ درد انگیز صورتحال ہے کیونکہ ملک پہلے سے توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے جب کہ ملکی معیشت اور صنعتی ترقی کا زیادہ تر دار و مدار بجلی اور توانائی کے چلتے انجن سے مشروط ہے اس لیے اس سمت میں طویل المیعاد منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ کم از کم موجود سسٹم کو شفاف اور فعال بنانے کی بھی ضرورت ہے جس کا ہمہ جہتی فنی سطح پر مظاہرہ اکثر دیکھنے میں نہیں آتا۔ بس بلیم گیم شروع ہو جاتی ہے۔

مسئلہ بجلی کی فالٹ فری فراہمی کا ہے۔ بجلی کی پیداواری صلاحیت اور تقسیم و ضیاع قومی ایشوز کا حصہ ہیں تاہم واپڈا، کے ای یا بجلی کے پیداواری عمل سے متعلق دیگر جو ادارے ہیں، ان سب کا فرض ہے کہ ملک کے تمام شہروں اور دور دراز علاقوں کو قانون کے مطابق بجلی کی فراہمی ایک مضبوط و شفاف نظام کے تحت ملتی رہے۔ لوڈ شیڈنگ اور بریک ڈاؤن کے واقعات قومی ترقی کے حوالہ سے ادارہ جاتی اہلیت و مہارت پر سوال اٹھاتے ہیں جس کے باعث اندازہ لگائیے کہ بجلی کی عدم فراہمی کے نتیجے میں جمعۃ الوداع کا جوش و خروش ماند پڑ گیا، واٹر بورڈ کی رائزنگ مین میں شگاف پڑ گیا اور شہر میں 460 ملین گیلن پانی فراہم نہیں کیا جا سکا، شہر کی متعدد ٹیلی فون ایکس چینجز کا سسٹم بیٹھ گیا، عیدالفطر کی تیاریاں اور خریداری بھی بری متاثر ہوئی۔

دریں اثنا واٹر بورڈ کے تمام پمپنگ اسٹیشنز اور شہر کے 280 پمپنگ اسٹیشنز، C.O.D فلٹر پلانٹ پر بجلی مکمل بند ہو نے سے شہر میں 460 ملین گیلن پانی فراہم نہ ہو سکی جب کہ حب ڈیم سے پانی کی عدم فراہمی سے 100 ملین گیلن پانی کی پہلے ہی کمی ہے، بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کے باعث پانی کا بھی بحران پیدا ہو گیا۔ ایک کاسموپولیٹن شہر میں یہ کیا ہو رہا ہے۔ ادھر جامشورو میں واقع گرڈ اسٹیشن میں بارش کے دوران پاور ٹرانسفارمر جل جانے کے باعث حیدرآباد سمیت زیریں سندھ کے 13 اضلاع میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کے باعث 12 سے 16 گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس بریک ڈاؤن کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائے، فالٹ کی نوعیت اور تکنیکی معاملات کی مکمل چھان بین کر کے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسی خرابی پھر پیدا نہ ہو۔ مہنگائی، ناآسودگی کے ستائے ہوئے عوام کو بجلی کے ہولناک اور تکلیف دہ بریک ڈاؤن اور لوڈ شیڈنگ سے ہمیشہ کے لیے نجات ملنی چاہیے۔ ارباب اختیار بریک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ عوامی صبر کے بریکنگ پوائنٹ پر بھی نظر ڈالیں۔ یہ احساس زیاں کی گھڑی ہے۔