متحرک ٹیکس دہندگان کی فہرست جاری ایٹ سورس ٹیکس کٹوتی کا فیصلہ

ایٹ سورس انکم ٹیکس کٹوتی کیلیے رولزمیں تبدیلی تجویز، ایف بی آر نے ترمیمی مسودے پراعتراضات،سفارشات اور آرا طلب کر لیں


Irshad Ansari July 27, 2014
ایٹ سورس انکم ٹیکس کٹوتی کیلیے رولزمیں تبدیلی تجویز، ایف بی آر نے ترمیمی مسودے پراعتراضات،سفارشات اور آرا طلب کر لیں ۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے8 لاکھ سے زائد ایکٹو ٹیکس دہندگان سے ایٹ سورس (منبع) انکم ٹیکس کٹوتی کے لیے انکم ٹیکس رولز میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے انکم ٹیکس رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار کرکے اسٹیک ہولڈرز کی آرا و تجاویز کے لیے جاری کردیا گیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے ایس آر او نمبر 699(I)/2014 کے تحت جاری کردہ مجوزہ ترمیمی مسودے میں ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سے متعلقہ شق میں ترامیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال 2014-15 کے لیے ایکٹو ٹیکس پیئرز کی لسٹ نہ صرف شائع کی جائے گی بلکہ اسے ایف بی آر کی ویب سائٹ پر بھی ڈالا جائے گا، ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ ایکٹو ٹیکس پیئرز کی لسٹ تاریخ اجرا سے آئندہ سال کے ماہ فروری تک کے لیے کار آمد ہوگی۔

اس کے علاوہ ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ کو ہر ماہ کی 15 تاریخ تک اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس بارے میں ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے مختلف بینکوں، فلور ملز، دکانداروں، صنعت کاروں اوراور باصلاحیت انفرادی لوگوں پر مشتمل ایکٹو ٹیکس دہندگان کے ناموں کی فہرست جاری کردی ہے اور ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ 9ہزار349 صفحات پر مشتمل اس فہرست میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اداروں، صنعتی و کمرشل یونٹس اور انفرادی ٹیکس دہندگان کے نام، نیشنل ٹیکس نمبرز اور ان کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرزکے علاوہ دیگر متعلقہ تفصیلات بھی جاری کی گئی ہیں اور اس فہرست میں شامل لوگوں، اداروں اور یونٹس کو ایکٹو ٹیکس پیئرز قرار دیا گیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ فہرست میں شامل ان اداروں، لوگوں اور یونٹس سے ایٹ سورس انکم ٹیکس کٹوتی کی جائے گی۔

ایف بی آر کی جاری کردہ فہرست میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ اور ادارے و یونٹس بھی شامل ہیں جن میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز نہیں ہیں اور بہت سے ایسے لوگ اور ادارے بھی شامل ہیں جن کے این ٹی این نہیں ہیں تاہم اس فہرست میں شامل لوگوں، اداروں اور یونٹس سے ایٹ سورس انکم ٹیکس کٹوتی کی جائے گی جس کے لیے مجوزہ ترمیمی ایس آر او جاری کیا جا رہا ہے اور اگر آئندہ 7 روز میں اس ترمیمی ایس آر او کے بارے میں اسٹاک ہولڈرز کی طرف سے کوئی اعتراض و رائے موصول نہ ہوئی تو مذکورہ ایس آر او کو گزٹ نوٹیفکیشن میں شامل کر کے نافذ کردیا جائے گا۔