عیدالفطر کے موقع پر 250 ارب روپے کی اقتصادی سرگرمیاں

کپڑوں، جوتوں ودیگراشیا کی خریداری اورہوٹلوں،سیروتفریح پرفی کس 1500روپے کے اخراجات کا تخمینہ


Irshad Ansari August 01, 2014
1کھرب کی اقتصادی سرگرمی،8 تا 12ارب کے اضافی ریونیو کی امید، تعطیلات کے باعث جولائی میں15ارب کی کم وصولیاں،رواں ماہ ریکوری ہو جائیگی،ایف بی آرحکام۔ فوٹو: فائل

رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران عیدالفطر کے حوالے سے 100 ارب روپے سے زائد مالیت کی اقتصادی سرگرمیاں کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

جبکہ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ 250 ارب روپے کے لگ بھگ اقتصادی سرگرمیاں ہوئی ہیں جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کو 20ارب روپے کے لگ بھگ اضافی ریونیو حاصل ہوسکتا ہے تاہم اس حوالے سے ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ عید کی تعطیلات کے باعث جولائی کے دوران 15ارب روپے کے لگ بھگ کم ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں کیونکہ عید کی تعطیلات کے باعث ریونیو جمع نہیں ہوسکا تاہم یہ نقصان نہیں بلکہ ریونیوکی وصولی کا عمل وقتی طور پر رک گیا ہے جو اگست میں حاصل ہو جائے گا۔

عید کے موقع پر اقتصادی سرگرمیوں کے حوالے سے ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ عید کے موقع پر 1کھرب روپے سے زائد مالیت کی اقتصادی سرگرمیاں ہوئی ہیں لیکن ان اقتصادی سرگرمیوں سے پوری صلاحیت کے مطابق ٹیکس نہیں آتا کیونکہ ملکی معیشت کا بہت بڑا حصہ ان فارمل ہے جو ٹیکس نیٹ میں نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں ان کے باعث عید کے موقع پر ہونے والی اقتصادی سرگرمیوں سے کچھ زیادہ ریونیو حاصل ہوسکے گا اور توقع ہے کہ یہ اضافی ریونیو 8 سے 12 ارب روپے کے لگ بھگ ہوگا۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اگر رمضان المبارک اور رمضان کے آخری عشرے میں ہونیوالی عید کی خریداری اور پھر عید کے موقع پر یا اس کے آئندہ 3تین روز تک ہونے والی تمام اقتصادی سرگرمیاں دستاویزی ہوں اور ٹیکس نیٹ میں ہوں تو صرف اس ایک تہوار کے موقع پر 20 ارب روپے کے لگ بھگ اضافی ریونیو حاصل ہوسکتا ہے۔ اس بارے میں اقتصادی ماہر و چارٹرڈ اکاونٹنٹ اشفاق توالہ کا کہنا ہے کہ عید الفطر کے موقع پر 200 ارب روپے سے زائد کی اقتصادی سرگرمیاں ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ملکی آبادی اگرچہ 19کروڑ کے لگ بھگ ہوچکی ہے تاہم اگر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملکی آبادی 18 کروڑ ہی شمار کی جائے تو بھی اگر 1500روپے فی کس کے حساب سے بھی خریداری کا تخمینہ لگایاجائے تو اقتصادی سرگرمیاں ڈھائی کھرب روپے سے تجاوز کرجاتی ہیں۔

ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت کی وجہ سے ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ عید کے موقع پر خریداری کے قابل نہیں ہوتا تاہم اگر اس طبقے کو نکال بھی دیا جائے تو بھی اقتصادی سرگرمیاں ڈھائی سو ارب روپے سے زائد بنتی ہیں کیونکہ عید کے موقع پر کپڑوں، جوتوں سمیت دیگر اشیا کی خریداری کے ساتھ ساتھ اگر ہوٹلوں، پارکوں، سیروتفریح پر کیے جانیوالے اخراجات کو بھی شمار کیا جائے تو اوسطاً اخراجات 1500روپے فی کس سے کہیں زیادہ ہوجاتے ہیں مگر بدقسمتی سے عام حالات کی طرح ایسے تہواروں کے موقع پر ہونے والی اقتصادی سرگرمیوں سے بھی ٹیکس بہت کم آتا ہے کیونکہ ان اقتصادی سرگرمیوں کا بڑا حصہ غیررسمی ہوتا ہے جو ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، اس لیے ایف بی آر کو اتنا اضافی ریونیو نہیں مل پاتا جتنا ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر ان اقتصادی سرگرمیوں کی ٹھیک سے مانیٹرنگ کرے اور 70 فیصد اقتصادی سرگرمیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے میں کامیاب ہوجائے تو ایف بی آر 20ارب روپے کے قریب اضافی ریونیو حاصل کرسکتا ہے البتہ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو 8 سے 12 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔