جنرل راحیل شریف کا وزیرستان میں پاک فوج سے خطاب

دہشت گردوں نے پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی تھی


Editorial August 02, 2014
دہشت گردوں نے پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی تھی. فوٹو: فائل

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے عید کے روز شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے دستوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نہایت جرات و بہادری اور جذبہ حب الوطنی کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہے، دہشت گردوں کا کمانڈ اور مواصلاتی نظام تباہ کیا جا چکا ہے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ شمالی وزیرستان سے فرار ہونے والے دہشت گردوں کو واپس نہیں آنے دیا جائے گا' پوری قوم کی مسلسل توجہ ہی سے پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے مشترکہ مقاصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔

جنرل راحیل شریف نے عید اگلے مورچوں پر فوجی جوانوں کے ساتھ منائی، انھوں نے آپریشن ضرب عضب میں حصہ لینے والے جوانوں کی بہادری' جذبے اور عزم کو سراہا اور مادر وطن کے لیے جان کا نذرانہ دینے اور زخمی ہونے والے جوانوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں جس بہادری اور جذبے سے مقابلہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو شکست دی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ شمالی وزیرستان کا ایک بڑا حصہ فوج کے کنٹرول میں آ چکا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی بقایا حصہ اس کے کنٹرول میں آ جائے گا اور اس طرح پورا علاقہ دہشت گردوں سے پاک ہو جائے گا۔

دہشت گردوں نے پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی تھی حتیٰ کہ عید جیسا پر مسرت دن بھی دہشت گردی کے خوف میں گزرتا تھا مگر اس بار ضرب عضب کے باعث دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی اور پورے ملک میں ان کا خوف ختم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امسال عید کے موقع پر دہشت گرد کوئی کارروائی نہ کر سکے اور پوری قوم نے عید اطمینان اور سکون سے منائی' تجارتی مراکز' بازار اور دیگر سرکاری ادارے بھی ہر قسم کی دہشت گردی سے محفوظ رہے جس سے بازاروں میں کاروباری سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔بہت سے حلقوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ آپریشن مکمل ہونے کے کچھ عرصہ بعد دہشت گرد وزیرستان کا دوبارہ رخ کر سکتے ہیں اور اس طرح دہشت گردی کے خطرات ایک بار پھر پیدا ہو جائیں گے۔

اس خدشے کو دور کرنے کے لیے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پوری قوم کو یقین دلایا ہے کہ وزیرستان سے فرار ہونے والے دہشت گردوں کو واپس نہیں آنے دیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ جنرل راحیل شریف عید کے روز آئی ڈی پیز سے بھی گلے ملے اور بچوں کو پیار کیا، انھوں نے آئی ڈی پیز کو یقین دلایا کہ پوری قوم اور پاک فوج دل و جان سے ان کے ساتھ ہے اور ان کی امداد میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گے بلکہ ان کی جلد واپس آباد کاری کے منصوبے کو حتمی شکل دیں گے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ علاقے میں امن قائم کریں گے اور قبائلی علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن مدد کریں گے۔

فوج نے آئی ڈی پیز کے مسئلے کو جس مہارت اور بہتر منصوبہ بندی سے سرانجام دیا ہے وہ قابل تحسین ہے، اس نے نہ صرف آئی ڈی پیز کی ہر ممکن مدد کی ہے بلکہ ان کی جان و مال کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا ہے۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ اس مشکل مرحلے میں آئی ڈی پیز کو تنہا نہیں چھوڑا گیا بلکہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ان کی واپسی اور آباد کاری کے منصوبے بھی تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں امن قائم ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ صنعتی اور ترقیاتی منصوبے بنائے جائیں تاکہ وہاں کے لوگوں کو اپنے ہی علاقے میں بڑے پیمانے پر روز گار مل سکے۔

دریں اثناء پاکستانی فوجی حکام کے مطابق منگل کی رات 70 سے 80 شدت پسندوں نے افغانستان سے داخل ہو کر دیر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر دھاوا بول دیا ، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں سات شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ باجوڑ میں بھی افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے حملے کی اطلاعات ہیں۔پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے سخت احتجاج کرتے ہوئے کابل حکومت کو ایسی کارروائیاں روکنے پر زور دیا ہے۔