باسی کھانا کھانے سے 244 سے زائد اہلکاروں کی حالت غیر

رزاق آباد ٹریننگ سینٹر میں کینٹین کیخلاف احتجاج پر اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا


Staff Reporter September 24, 2012
رزاق آباد ٹریننگ سینٹر میں کینٹین کیخلاف احتجاج پر اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ فوٹو: فائل

بینظیر پولیس ٹریننگ سینٹر رزاق آباد میں باسی کھانا کھانے سے 244سے زائد زیر تربیت اہلکاروں کی حالت غیر ہو گئی۔

احتجاج کرنے پر کینٹین کے عملے نے زیر تربیت اہلکاروں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا، واقعے کے بعد زیر تربیت اہلکاروں نے ٹریننگ سینٹر کے ایڈمنسٹریٹر بلاک پر پتھراؤ شروع کر دیا جبکہ تربیت یافتہ اہلکاروں اور ٹریننگ سینٹر کے عملے نے ایک دوسرے پر بندو قیں تان لیں، مشتعل اہلکاروں نے نیشنل ہائی وے بلاک کر کے دھرنا دے دیا جو رات گئے تک جاری رہا، وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ۔

تفصیلات کے مطابق شاہ لطیف تھانے کی حدود نیشنل ہائی وے پر واقع بینظیر پولیس ٹریننگ سینٹر رزاق آباد میں رات کا کھانا ( انڈا چھولے ) کھانے سے 244 سے زائد اہلکاروں کی حالت غیر ہو گئی جنھیں فوری طور پر اسٹیل ٹاؤن 244 بیڈ اسپتال لے جایا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مختلف فلاحی اداروں کی سیکڑوں ایمبولینسز وہاں پہنچ گئیں جہاں 10 سے زائد اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں جناح اسپتال لے جایا گیا جبکہ دیگر اہلکاروں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد جناح، سول، عباسی شہید اور دیگر نجی اسپتالوں میں لے جایا گیا۔

ابتدائی طور پر سلیمان ، محمد عمران ، اظہر احمد ، عابد نواز ، نثار ، صداقت ، آصف ، عاصم ، ساجد ، سراج ، غلام اسحاق ، سلامت علی ، زبیر ، وکیل ، ، سلیمان ، بلال ، رشید احمد ، رانا محمد ساجد ، عطاء اﷲ ، وسیم ، عبد الواحد ، فضل زمان ، عبد الوہاب ، ممتاز ، گل منیر ، گل محمد ، واحد بخش ، کامران شہزاد ، شاہد ، اسلم ، اظہر علی ، زاہد حسین ، عبد السلام ، محمد سلیم ، امجد اور انس کو جناح اسپتال جبکہ عادل ، مقصود علی ، فہد ، عابد ، فرحان ، آصف سمیع اﷲ اور ذوالفقار سمیت 10 اہلکاروں کو سول اسپتال پہنچایا گیا، ذرائع نے بتایا کہ ٹریننگ سینٹر کے انچارج ایس ایس پی مقصود نے کینٹین کا ٹھیکہ مبینہ طور پر اسپیشل سیکیورٹی فورس کے سب انسپکٹر اکرم بٹ اور اس کے بھائی کو دلوا دیا تھا جو گزشتہ کئی دنوں سے پورے سندھ سے مختلف تربیت کے لیے آنے والے1800 سے زائد افسران و اہلکاروں کو باسی کھانا کھلا رہے تھا۔

ذرائع کے مطابق کینٹین کا عملہ احتجاج کرنے والے زیر تربیت اہلکاروں کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بناتا تھا بلکہ ان کے استاد سے کہہ کر انھیں تربیت کے دوران سخت سزا بھی دلواتا تھا، گزشتہ روز بھی کھانے کے بعد جب زیر تربیت اہلکاروں کی حالت غیر ہونا شروع ہوئی تو وہاں موجود اہلکاروں نے احتجاج کیا جس پر کینٹین کے عملے نے انھیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تاہم کھانا کھانے والے اہلکاروں کو جب قے شروع ہو ئی تو عملے نے انھیں وہیں طبی امداد دینے کی کوشش کی تاہم دیکھتے ہی دیکھتے متعدد اہلکار بے ہوش ہو گئے جس پر انھیں فوری طور پر اسٹیل ٹاؤن کے اسپتال لے جایا گیا جب اہلکاروں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو وہاں موجود دیگر زیر تربیت اہلکاروں نے ایڈمنسٹریٹر بلاک پر احتجاجاً پتھراؤ شروع کر دیا جس سے وہاں موجود عملہ بندوقیں لے کر آگیا۔

زیر تربیت اہلکار بھی بندوقیں لے آئے اور ایک دوسرے پر تان لیں اس دوران متعدد زیر تربیت اہلکار اور ٹریننگ سینٹر کا عملہ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گیا جبکہ وہاں موجود ٹریننگ سینٹر کے افسران موقع دیکھ کر فرار ہو گئے اہلکاروں نے انھیں روکنے کے لیے ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے بعد ازاں مشتعل اہلکاروں نے نیشنل ہائی وے پر دھرنا دیکر ٹریفک معطل کرا دیا اور ٹریننگ سینٹر کے افسران کے خلاف راشی راشی کے نعرے لگائے، شہر کے مختلف علاقوں اور ہیڈ کوارٹر سے پولیس کی بھاری نفری نیشنل ہائی وے پر طلب کر لی گئی تھی۔

اطلاع ملنے پر وزیر اعلیٰ سندھ نے انتہائی برہمی کا اظہار کیا اور واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی اور کینٹین اور کھانے کو فوری طور پر سیل کر نے کا حکم دیتے ہوئے زیر تربیت اہلکاروں کو کھلائے جانے والے کھانے کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا اور ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا۔ آئی جی سندھ فیاض لغاری نے تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود اور ڈی آئی جی ٹریننگ شہاب ملی کی سربراہی میں3رکنی کمیٹی بنا دی۔ آئی جی سندھ کے ترجمان نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں معلومات لینے کے لیے ایس ایس پی اسپیشل سیکیورٹی مقصود کو متعدد بار فون کیا گیا تاہم انھوں نے اپنا موبائل فون اٹینڈ نہیں کیا واضح رہے ایس ایس پی مقصود رزاق آباد ٹریننگ سینٹر کے انچارج بھی ہیں۔