نئی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ بینائی ے انتہائی شدید مسائل والے معمر افراد میں ایک وائرلیس آنکھ کا امپلانٹ بینائی کی کافی حد تک بحالی ممکن بنا سکتا ہے۔
یہ امپلانٹ خاص طور پر Age‑related Macular Degeneration (اے ایم ڈی) کے شکار معمر مریضوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں آنکھ میں مرکزی ریٹینا کے خلیات ضائع ہو چکے ہوتے ہیں۔
امپلانٹ کا نظام کچھ یوں کام کرتا ہے کہ ایک 2 × 2 ملی میٹر کا وائرلیس چِپ ماتھے کے نیچے ریٹینا کی اُس جگہ امپلانٹ کیا جاتا ہے جہاں روشنی محسوس کرنے والے خلیات ختم ہو چکے ہوں۔ ایک کیمرہ ماؤنٹڈ عینک تصاویر لیتا ہے، انہیں انفرا ریڈ روشنی کی صورت میں چپ پر بھیجتا ہے اور چپ ان سگنلز کو برقی سگنلز میں تبدیل کرتا ہے تاکہ ریٹینا اور پھر دماغ کو بصری معلومات پہنچ سکے۔
کلینیکل ٹرائلز میں تقریباً 32 مریض جنا کا 12 ماہ بعد جائزہ لیا گیا، ان میں سے 26 نے کافی بہتر بینائی کی بہتری پائی۔
مریضوں نے کہا کہ وہ دوبارہ خطوط پڑھنے، الفاظ پہچاننے اور روزمرہ معمولات میں بصری معاونت حاصل کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
تاہم واضح رہے کہ یہ امپلانٹ مکمل “قدرتی” بینائی واپس نہیں لاتا۔ فی الحال بصارت بلیک-اینڈ-وائٹ کی حد تک ہوتی ہے، رنگین یا نفیس بصارت نہیں۔