لاہور کے تاریخی ناصر باغ میں زیرِ تعمیر انڈرگراؤنڈ پارکنگ پلازہ کے خلاف دائر فوری آئینی درخواست پر سماعت نہ ہونے کے باعث ماحولیاتی نقصان بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی میں تاخیر کے دوران ناصر باغ کی قدرتی ساخت، حیاتیاتی تنوع اور تاریخی حیثیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق ناصر باغ، جو لاہور کے چند باقی ماندہ تاریخی سبز مقامات میں شامل ہے، وہاں درختوں کی غیر قانونی کٹائی، قدرتی آبی ذخائر کو نقصان اور ماحولیاتی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی جاری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، جن میں شہریوں کے بنیادی حقوق، صاف ماحول اور باعزت زندگی کا حق شامل ہے۔
ماحولیاتی وکیل التمش سعید نے بتایا اس حوالے سے 24 دسمبر 2025 کو عمرانہ ٹوانہ و دیگر بنام حکومتِ پنجاب کے عنوان سے آئینی درخواست دائر کی گئی، جس میں ناصر باغ پارکنگ پلازہ منصوبے کو چیلنج کرتے ہوئے فوری حکمِ امتناع کی استدعا کی گئی۔ اسی روز معاملہ معزز جج جسٹس سلطان تنویر احمد کے روبرو پیش ہوا، جنہوں نے معاملے کی فوری نوعیت کو تسلیم کرتے ہوئے کیس کو ماحولیاتی مقدمات سننے والے معزز جج جسٹس شاہد کریم کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کی لیکن واضح عدالتی ہدایت کے باوجود کیس کو مقرر نہ کیا گیا اور 26، 29، 30 اور 31 دسمبر کو متوقع سماعتیں منسوخ یا ملتوی ہوتی رہیں، حالانکہ متعلقہ جج عدالت میں موجود تھے۔
اس معاملے پر لاہور کنزرویشن سوسائٹی، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور دیگر سماجی و ماحولیاتی تنظیموں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، عدالتی انتظامیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ماحولیاتی نقصان ناقابلِ واپسی ہوتا ہے اور ایسے معاملات میں عدالتی تاخیر غیر جانبدار نہیں بلکہ نقصان کو تقویت دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف درختوں کا نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام اور آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی کا ہے۔
اس سے قبل ناصر باغ منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر حمادالحسن نے بتایا تھا کہ ان کی متعلقہ این جی اوز سے دوملاقاتیں ہوچکی ہیں ، عدالت کی ہدایات اور سول سوسائٹی کی تجاویز کے مطابق کام کو آگےبڑھایا جائیگا۔