وینزویلا ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور اس کی وجہ صرف سیاسی بحران نہیں بلکہ وہ بے پناہ قدرتی دولت ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں اسٹریٹجک اہمیت دیتی ہیں۔
طویل عرصے سے عائد پابندیوں اور سیاسی عدم استحکام کے باعث وینزویلا اپنی قدرتی دولت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکا، تاہم صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد یہ سوال دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ آیا یہ وسائل عالمی طاقتوں کی نئی دلچسپی کی اصل وجہ ہیں۔
وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن کی مقدار تقریباً 303 ارب بیرل بتائی جاتی ہے۔
اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل رکھی جائے تو ان ذخائر کی نظریاتی مالیت 22 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اس کے باوجود امریکی پابندیوں، سرمایہ کاری کی کمی اور سرکاری تیل کمپنی کے بوسیدہ ڈھانچے کے باعث پیداوار شدید متاثر رہی ہے۔
تیل کے علاوہ وینزویلا قدرتی گیس کے ذخائر میں بھی دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل ہے، جہاں 6.3 ٹریلین مکعب میٹر سے زائد گیس موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی رکاوٹیں دور ہوں تو قدرتی گیس وینزویلا کی معیشت کو تیزی سے سہارا دے سکتی ہے۔
ملک کے جنوبی علاقوں میں سونے کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں، جن کی تخمینہ مالیت 500 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ تاہم غیر قانونی کان کنی، سمگلنگ اور ماحولیاتی مسائل اس شعبے کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وینزویلا کے پاس لوہا، باکسائٹ، کولٹان، نکل اور فاسفیٹ جیسے نایاب معدنیات بھی موجود ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی اور صاف توانائی کے دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وینزویلا کی اصل آزمائش وسائل کی کمی نہیں بلکہ سیاسی استحکام، شفاف نظامِ حکمرانی اور عالمی اعتماد کی بحالی ہے۔ اگر یہ عناصر میسر آ جائیں تو وینزویلا خطے میں توانائی، تجارت اور معیشت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔