2015ء سے 2022ء تک سپر ٹیکس کی مد میں 114 ارب روپے جمع ہوئے، وکیل

سماعت کل تک کے لیے ملتوی، ایف بی آر کے وکلا کل سیکشن فور سی پر دلائل کا آغاز کریں گے


ویب ڈیسک January 05, 2026

اسلام آباد:

وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، جہاں مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان پہلی بار وفاقی آئینی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپر ٹیکس کیسز کی ابتدائی سماعت کی، جس کے بعد وقفہ کیا گیا۔   سماعت کے دوران مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ سپر ٹیکس کے ذریعے 2015 میں ابتدائی ہدف 80 بلین روپے مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سپر ٹیکس کی مد میں 2015 سے 2022 تک مجموعی طور پر 114 بلین روپے جمع ہوئے جب کہ اسی مدت کے دوران سپر ٹیکس کے تحت اکٹھے ہونے والی رقم میں سے 3 بلین روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔

مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ بینکنگ سیکٹر کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔

وقفے کے بعد سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی، جہاں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن فور بی پر ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے جواب الجواب مکمل کیے۔ عدالت نے بتایا کہ سیکشن فور سی پر دلائل کا آغاز کل سے کیا جائے گا۔

اس موقع پر ایف بی آر کے وکلا عاصمہ حامد اور شاہنواز میمن نے اپنے دلائل پیش کیے۔

سماعت کے اختتام پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو روسٹرم پر طلب کیا گیا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ عامر رحمان صاحب آپ کچھ ایڈ کرنا چاہیں گے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ تمام وکلا دلائل مکمل کر لیں تو وہ اپنی گزارشات پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیڈریشن کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے سپر ٹیکس کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی جب کہ ایف بی آر کے وکلا کل سیکشن فور سی پر اپنے دلائل کا آغاز کریں گے۔

مقبول خبریں