کراچی:
بجلی کے بلوں میں ٹیکس وصولی کے کیس میں وکیل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک نے کے ایم سی کی طرف سے کتنی رقم وصول کرلی۔
سندھ ہائیکورٹ میں بجلی کے بلوں میں میونسپل ٹیکس کی وصولی کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلا سے حتمی دلائل طلب کرلیے۔
آج ہونے والی سماعت میں طارق منصور ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں عدالت کوبتایا کہ کے ایم سی کی طرف سے کے الیکٹرک 264 کروڑ روپے جمع کر چکی ہے۔ 29 مئی 2024 کو ہائیکورٹ حکم میں قرار دے چکی ہے کہ کے ایم سی کی وصولی عارضی ہے۔ کے ایم سی کی تمام ریزولوشن کا فیصلہ اس پٹیشن میں کیا جائے گا۔ عدالت سے استدعا ہے کہ اس پٹیشن کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کی جائے۔
درخواست گزار کے مطابق اس ٹیکس کے متعلق مزید درخواستیں بھی دائر کی گئیں ہیں۔ جب تک اس درخواست کا فیصلہ نہیں ہوگا دوسری درخواستوں پر فیصلوں پر بھی عملدرآمد نہیں ہوسکتا۔ عدالت اس درخواست پر قرار دے چکی ہے کہ ٹیکس وصولی کا حتمی فیصلہ اس درخواست کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔
طارق منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایم یو سی ٹی چارجز کا نفاذ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کی خلاف ورزی ہے۔ نیپرا بھی کے الیکٹرک کی جانب سے کے ایم سی ٹیکس وصولی کو خلاف قانون قرار دے چکا ہے۔ مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب عدالت کے 29 مئی 2024 کے احکامات کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے مطابق یوٹیلیٹی ٹیکس کے الیکٹرک کے ذریعے وصولی کے بارے میں تفصیلی بحث ضروری تھی۔ مئیر کراچی نے اس معاملے پر کمیٹیوں کو بریف کیا نہ ایوان میں بحث کا موقع دیا۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 14 تاریخ تک ملتوی کردی۔