افغان مہاجرین کی پرتشدد سرگرمیاں، جرمنی اور ترکیہ میں ملک بدری تیز

مہاجرین کئی ممالک میں ہنگامہ آرائی، منشیات اسمگلنگ اور دیگر پرتشدد جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں


ویب ڈیسک January 06, 2026

جرمنی اور ترکیہ میں افغان مہاجرین کی مبینہ پرتشدد اور مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث ملک بدری کے اقدامات میں تیزی آ گئی ہے۔ مختلف غیر ملکی اور افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق متعدد ممالک افغان مہاجرین کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

افغان میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات بیرونِ ملک مقیم افغان مہاجرین کے رویّوں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغان مہاجرین کئی ممالک میں ہنگامہ آرائی، منشیات اسمگلنگ اور دیگر پرتشدد جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، جس کے شواہد سامنے آنے کے بعد میزبان ممالک نے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

افغان جریدے آریانہ نیوز کے مطابق جرمنی میں سخت امیگریشن پالیسی نافذ کی جا رہی ہے اور حال ہی میں منشیات اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ایک اور افغان پناہ گزین کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ جرمن میڈیا کے مطابق 2025 کے دوران اب تک 83 افغان پناہ گزینوں کو سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر جرمنی سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔

جرمن فارن نیشنلز رجسٹریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 11 ہزار 888 رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو جرمنی چھوڑنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے جرائم میں ملوث افغان مہاجرین سمیت تمام غیر قانونی پناہ گزینوں کی واپسی کو ناگزیر قرار دیا ہے، جبکہ حکمران جماعت کریسٹین سوشل یونین نے بھی افغان مہاجرین کی فوری اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ترکیہ میں بھی افغان مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حرکت اور مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ترک حکام کے مطابق ایک کارروائی میں 32 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا جو ٹینکر میں چھپ کر یورپی ممالک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ترک امیگریشن اتھارٹی کے مطابق 2025 کے دوران اب تک 42 ہزار غیر قانونی افغان مہاجرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان مہاجرین کی دہشت گردی اور پرتشدد سرگرمیوں کے باعث امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی امیگریشن اور اسپیشل امیگرنٹ ویزا ہولڈرز پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق افغان طالبان کی انتہا پسندی اور افغان مہاجرین کی سرگرمیاں پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

مقبول خبریں