سانحۂ سوپور: 6 جنوری کا وہ دن جو کشمیری کبھی نہیں بھول سکتے

متاثرین کے مطابق فائرنگ کسی اچانک واقعے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند ریاستی کارروائی تھی


ویب ڈیسک January 06, 2026

سانحۂ سوپور مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک المناک اور ہولناک واقعہ قرار دیا جاتا ہے، جو 6 جنوری 1993 کو پیش آیا۔

اس دن بھارتی فورسز کی فائرنگ اور کارروائیوں کے نتیجے میں درجنوں نہتے کشمیری شہری جان سے گئے، جبکہ بازار، گلیاں اور رہائشی علاقے آگ اور خوف کی لپیٹ میں آ گئے۔

عینی شاہدین اور متاثرین کے مطابق سوپور میں ہونے والی فائرنگ کسی اچانک واقعے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند ریاستی کارروائی تھی۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ بھارتی اہلکاروں نے شہداء کو گھسیٹ کر مختلف مقامات پر منتقل کیا اور بعد ازاں انہیں کراس فائرنگ میں ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

متاثرین نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بھارتی فورسز نے دکانوں اور گھروں سے سامان لوٹا، تیل سے بھرے ٹینکروں سے ایندھن نکال کر گھروں پر چھڑکا اور پھر آگ لگا دی۔ بارڈر سیکیورٹی فورس کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک مسافر بس سمیت مختلف مقامات پر بے گناہ شہری مارے گئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6 جنوری 1993 کو سوپور میں 60 سے زائد افراد کو گولیوں سے ہلاک کیا گیا اور بعض کو زندہ جلائے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سانحے کو قتلِ عام قرار دیا، تاہم تین دہائیاں گزرنے کے باوجود متاثرین کو انصاف نہ مل سکا۔

مبصرین کے مطابق آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے قوانین نے بھارتی فورسز کو استثنا فراہم کیا، جس کے باعث ذمہ دار عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہ ہو سکی۔

سانحۂ سوپور آج بھی کشمیری عوام کے لیے ایک کھلا زخم ہے اور متاثرہ خاندان عالمی برادری کی توجہ اور انصاف کے منتظر ہیں۔

مقبول خبریں