لیویز فورس کو بلوچستان پولیس میں قانونی طور پر ضم کر دیا گیا

اے اور بی ایریا کیٹیگری کی تقسیم بھی ختم کر دی گئی ہے


ویب ڈیسک January 06, 2026

کوئٹہ:

لیویز فورس کو بلوچستان پولیس میں باقاعدہ قانونی طور پر ضم کر دیا گیا ہے جبکہ اے اور بی ایریا کیٹیگری کی تقسیم بھی ختم کر دی گئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ الحمدللہ، بلوچستان میں یکساں قانون کے نفاذ سے متعلق ایک دیرینہ انتظامی ابہام باضابطہ طور پر ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیویز فورس کو بلوچستان پولیس میں باقاعدہ قانونی طور پر ضم کر دیا گیا ہے جبکہ اے اور بی ایریا کیٹیگری کی تقسیم بھی ختم کر دی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ریاستی ذمہ داری واضح اور عوام کے تحفظ کا دائرہ مضبوط سے مضبوط تر ہوگا۔

قبل ازیں، ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق تمام لیویز اہلکار فوری طور پر ایس پی چمن کو رپورٹ کریں۔ ضلع چمن میں لیویز تھانے، چیک پوسٹیں اور چوکیاں پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا۔

جاری اعلامیہ میں لیویز انچارجز کو اپنی ذمہ داریاں فوری طور پر پولیس فورس کے سپرد کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ضلع چمن میں لیویز سے پولیس کو اختیارات کی منتقلی کا عمل فوری مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔

ہوم ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کے نوٹیفکیشن پر چمن میں عمل درآمد شروع ہوگیا۔ چمن میں سیکیورٹی نظام پولیس کے سپرد، ہینڈ اوور دستاویزی کارروائی کے تحت ہوگا۔

حکومت بلوچستان کے فیصلے کے تحت سبی اور لورالائی ڈویژنز کو مکمل طور پر اے ایریاز قرار دے دیا گیا۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اعلامیہ کے مطابق سبی اور لورالائی ڈویژنز میں پولیس کا دائرہ اختیار نافذ کر دیا گیا، سبی و لورالائی میں لیویز فورس بلوچستان پولیس میں ضم کر دی گئی۔

صوبائی و سابقہ وفاقی لیویز اہلکار پولیس میں اپنی موجودہ رینک اور مراعات کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ سی پیک ونگ کے لیویز اہلکاروں کو بھی بلوچستان پولیس میں ضم ہونے کی ہدایت کر دی گئی۔

اعلامیے کے مطابق ضم شدہ علاقوں میں پولیس ایکٹ 2011 کا اطلاق ہوگا۔ لیویز کے بجٹ، اسلحہ، تھانے، چیک پوسٹیں اور ریکارڈ پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ سبی اور لورالائی میں لیویز کی تمام تنصیبات فوری طور پر پولیس کو منتقل کی جائے۔

ضم شدہ اضلاع میں امن و امان کی ذمہ داری مکمل طور پر پولیس کے سپرد کر دی گئی۔ ایس پی ضلعی انتظامیہ کو قانون نافذ کرنے میں پولیس اہلکار فراہم کر سکے گا۔

سبی اور لورالائی میں منتقلی کا عمل 30 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمشنرز سبی و لورالائی ڈویژنز کو ٹرانزیشن مکمل کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

مقبول خبریں