وفاقی افسران کی صوبوں میں تعیناتی کیخلاف تحریک التوا سے متعلق معاملہ متعلقہ محکمے کو ارسال

اسمبلی ذرائع نے کہا کہ  تحریک التواء کار محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کو ارسال کی گئی


ویب ڈیسک January 06, 2026

پنجاب اسمبلی میں وفاقی افسران کی صوبوں میں تعیناتی کے خلاف تحریک التوا سے متعلق اسمبلی سیکرٹریٹ نے تحریک التواء کا جواب کے لئے متعلقہ محکمے کو ارسال کر دی۔

اسمبلی ذرائع نے کہا کہ  تحریک التواء کار محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کو ارسال کی گئی، تحریک التواء کار پر اسمبلی سیکرٹریٹ نے حکومتی موقف مانگ لیا، جواب آنے پر تحریک التواء کار ایوان میں دوبارا زیر بحث لائی جائے گی، تحریک التواء کار مشترکہ طور پر 13 حکومتی ارکان کی جانب سے جمع کروائی گئی۔

تحریک التواء کار ایوان میں پیش ہو چکی، حکومتی جواب آنے تک مؤخر کی گئی، گزشتہ اجلاس میں تحریک التواء کار احمد اقبال چودھری نے پیش کی تھی، تحریک التواء کار کی حمایت ایوان میں اپوزیشن نے بھی کی تھی۔

متن  کے مطابق یہ ایوان اس امر پر غور و بحث کے لیے ملتوی ہو کہ پنجاب میں صوبائی آسامیوں پر مسلسل وفاقی افسران کی تعیناتی کے باعث ایک آئینی اور گورننس کا بحران جنم لے رہا ہے، جو اٹھارویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی اور آئین اسلامی جمہوریہ ،پاکستان 1973 کے وفاقی ڈھانچے سے متصادم ہے۔

جبکہ آئین صوبہ پنجاب کو سیاسی اور مالی خود مختاری کی ضمانت دیتا ہے،  تاہم انتظامی خودمختاری اب تک نظر انداز کی جا رہی ہے، باوجود اس کے کہ آئین کے آرٹیکلز 97، 137، 240 اور اور پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 صوبائی سروس کے لیے واضح قانونی فریم ورک مہیا کرتے ہیں،  یہ قوانین 1974 سے قبل کے انتظامات کو غیر مؤثر قرار دیتے ہیں۔

متن  کے مطابق یہ غیر معمولی صورت حال صوبے کے چیف ایگزیکٹو وزیر اعلیٰ کے اختیار کو کمزور کرتی ہے، وفاقی افسران پر صوبائی پالیسی لاگو نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں احتساب تسلسل اور اصلاحات کی ملکیت متاثر ہوتی ہے، صوبہ نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ انتظامی مشینری بر اس کا کنٹرول محدود رکھا جاتا ہے۔

 وفاقی افسران کو ترجیح دینا پنجاب کی اپنی صوبائی سول سروس پر ادارا جاتی عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، یہ تفویض اختیارات اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہے، ایوان فوری طور پر اس امر پر بحث کرے کہ صوبائی آسامیوں پر وفاقی تعیناتیوں کی بنیاد وسعت اور نتائج کیا ہیں، پنجاب کے آئینی مینڈیٹ اور انتظامی کنٹرول کے درمیان پائے جانے والے خلا کے آئینی مضمرات کیا ہیں؟

 یوان بحث کرے کہ جوابدہ صوبائی سول سروس کو مضبوط بنانے کی ضرورت کیا ہے، اس کے لئے وفاقی نظاموں میں انتظامی کارکردگی کے اصولوں اور مشترکہ ممالک کے تقابلی تجربات سے رہنمائی حاصل کی جائے، ایوان مزید قرارداد منظور کرتا ہے کہ صوبائی انتظامی خودمختاری اور سول سروس اصلاحات سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

متن  کے مطابق  کمیٹی 180 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے، رپورٹ میں صوبائی آسامیوں پر وفاقی افسران کی تعیناتیوں کی نشاندھی اور ہر تعیناتی کی قانونی بنیاد شامل ہو، رپورٹ میں احتساب کے طریقہ کار کا جائزہ تقرری و تبادلے کا اختیار کارکردگی کا جائزہ اور کنٹرول شامل ہو، رپورٹ میں صوبائی سول سروس میں اصلاحات اور کیڈر کی مضبوطی سے متعلق سفارشات شامل ہوں۔

مقبول خبریں