جاپان میں سوشی کے شوق نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں ایک معروف سوشی ریستوران نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے فش مارکیٹ میں 32 لاکھ ڈالر مالیت کی ٹونا مچھلی خرید لی۔
اس غیر معمولی خریداری کو حالیہ برسوں کی مہنگی ترین نیلامیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے کئی پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ نیلامی محض ایک کاروباری واقعہ نہیں بلکہ اس بات کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہے کہ پیسیفک سمندر میں بلیو فِن ٹونا کی تعداد میں بہتری آ رہی ہے، جو ایک وقت میں خطرناک حد تک کم ہو چکی تھی۔
پیو چیریٹیبل ٹرسٹ کی بین الاقوامی ماہی گیری ٹیم نے اس نیلامی کو اس مثبت پیش رفت کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔
’ٹونا کنگ‘ کے نام سے مشہور سوشی ریستوران چین نے جاپان کے شمالی ساحلی علاقے سے پکڑی گئی 243 کلوگرام وزنی بلیو فِن ٹونا کے لیے ٹوکیو کی فش مارکیٹ میں سب سے زیادہ بولی دی۔ نیلامی کے بعد ریستوران کے مالک کیوشی کیمورا نے اعتراف کیا کہ وہ قیمت میں اس قدر تیزی سے اضافے پر خود بھی حیران رہ گئے۔
کیوشی کیمورا کا کہنا تھا کہ ان کی توقع تھی کہ مچھلی نسبتاً کم قیمت میں مل جائے گی، لیکن بولی اس قدر تیزی سے بڑھی کہ اندازہ ہونے سے پہلے ہی ریکارڈ قیمت طے ہوگئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ معیار کی اس ٹونا سے بننے والا سوشی زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے خوشی اور توانائی کا باعث بنے گا۔
نئے سال کے موقع پر ہونے والی اس نیلامی میں 510 ملین ین کی قیمت 1999 کے بعد سب سے زیادہ قرار دی گئی ہے۔ اس سے قبل 2019 میں 278 کلوگرام بلیو فِن ٹونا 333 ملین ین میں فروخت ہوئی تھی، جبکہ گزشتہ سال 276 کلوگرام مچھلی کے لیے 207 ملین ین ادا کیے گئے تھے۔
نیلامی کے فوراً بعد اس قیمتی ٹونا کو ٹکڑوں میں کاٹ کر سوشی تیار کیا گیا، جو تقریباً 500 ین یا تین امریکی ڈالر فی رول کے حساب سے فروخت ہوا۔ ٹوکیو کے علاقے تسوکیجی میں کیمورا کے ایک ریستوران میں موجود 19 سالہ گاہک مینامی سوگیاما نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے انہوں نے سال کا آغاز ایک خاص اور یادگار ذائقے کے ساتھ کیا ہے۔ ان کے ساتھ موجود ایک اور گاہک کیوشی نشیمورا نے بھی اس احساس سے اتفاق کیا۔
یہ نیلامی نہ صرف جاپان کی سوشی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے بلکہ سمندری حیات کے تحفظ اور بحالی سے جڑی ایک امید افزا کہانی بھی بیان کرتی ہے۔