امریکا میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے نئے سال کے آغاز پر اعلیٰ امریکی قیادت سے اہم ملاقاتوں کا مثبت سلسلہ شروع کردیا ہے۔
امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو سال نو کی مبارکباد دی اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سفیر پاکستان نے پاک امریکا تعلقات کے فروغ کے حوالے سے چیئرمین برائن ماسٹ کی قیادت، کاوشوں اور مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس عزم کا حوالہ دیا کہ دوطرفہ تعلقات کو اقتصادی تعاون پر مبنی طویل مدتی اور پائیدار شراکت داری میں ڈھالا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سال 2026 کو عمل کا سال قرار دیا جانا چاہیے۔
ملاقات میں سفیر پاکستان نے دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ سطح کا معاشی مکالمہ جلد از جلد شروع کیے جانے پر زور دیا۔ انہوں نے توانائی، ڈیفنس، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبہ جات میں جامع اور فوری ڈائیلاگ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ کم لاگت اور اعلیٰ معیار کی صلاحیت سے مزین پاکستان امریکی منڈی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
رضوان سعید شیخ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں تیار شدہ سرجیکل آلات اور مصنوعات اپنے معیار کی بدولت دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اسی طرح موافق تجارتی ماحول اور مناسب توجہ ٹیکسٹائل اور دیگر پاکستانی برآمدات میں یقینی اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 5 فیفا ورلڈ کپ کے میچز میں سیالکوٹ میں تیار شدہ فٹ بالوں کا لگاتار استعمال اسپورٹس گڈز کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ملاقات میں علاقائی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں سفیر پاکستان نے کہا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی سے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال اور علاقائی و بین الاقوامی امن کو سنجیدہ خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کی کارروائیوں کے باعث سال 2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 40 فیصد جب کہ سال 2025 میں مزید 25 فیصد اضافہ ہوا۔
سفیر پاکستان نے افغانستان سے انخلا کے وقت چھوڑے گئے اسلحے کے مسلسل غلط اور جارحانہ استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکی کانگریس کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ کو دورۂ پاکستان کی دعوت بھی دی اور کہا کہ یہ دورہ پارلیمانی اور عوامی روابط کو مزید مستحکم بنائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے مابین اقتصادی، سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔