ادارے کو کس نے حق دیا کہ وہ ایک سیاسی جماعت پر الزام تراشی کرے؟ مشتاق غنی

سیاسی جماعت ہی سیاسی جماعت کے خلاف بات کرسکتی ہے، فوج نہیں! جب سوال ہوگا تو جواب آئے گا، سابق اسپیکر کے پی اسمبلی


ویب ڈیسک January 08, 2026

راولپنڈی:

سابق اسپیکر کے پی کے مشتاق غنی نے کہا ہے کہ کیا ملکی اداروں کو چاہیے کہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف بات کریں؟ سیاسی جماعت سیاسی جماعت کے خلاف بات کرسکتی ہے، فوج نہیں! فوج کو کس نے حق دیا ہے کہ الزام تراشی کرے؟ جب سوال ہوگا تو جواب آئے گا۔

آج بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات کا دن تھا، پی ٹی آئی رہنماء مشتاق غنی، میاں عمر، شیر علی آفریدی، افتخار چارسدہ، سمیع اللہ، شاہ تراب بھی اڈیالہ روڈ پہنچے۔ پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں کو داہگل ناکے پر پولیس نے روک لیا۔

پی ٹی آئی رہنماء و سابق اسپیکر کے پی کے مشتاق غنی نے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم ہر منگل کو بھی آتے ہیں، بہنیں رات گئے تک بیٹھی رہتی ہیں، بھائی سے ملاقات نہیں ہوتی، جمعرات دوستوں کا دن ہے سب آتے ہیں ناکوں پر روک لیا جاتا ہے، اس ناکے سے آگے اور لوگ تو جارہے ہیں صرف ہم 6 افراد کو روک لیا ہے، میں نے پولیس سے کہا کہ تلاشی لو اور آگے جانے دو ہم قانون ساز اسمبلی کے ممبر ہیں ہم پیدل جانا چاہتے ہیں لیکن جانے نہیں دیا جارہا۔

انہوں نے کہا کہ قانون نظر نہیں آتا یہ فسطائیت ہے، جس حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں وہ یاد رکھے ایک ایک چیز کا حساب لیا جائے گا، بانی دو اڑھائی مہینے سے قید تنہائی میں ہیں کس قانون کے تحت ملاقات پر پابندی لگائی گئی ہے؟ ہمارے وزیراعلی نے وزیراعظم کو کال عمران خان سے ملاقات کی بات کی تو وزیراعظم نے جواب دیا پوچھ کر بتاؤں گا،  وزیراعظم کی عملاً حکومت نہیں ہے وہ ڈائیلاگ کیا کرے گا؟ وہ مذاکرات کریں جن کے پاس اختیارات ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کبھی انتشار پر یقین نہیں کرتی، ہم آئین کی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، پیپلز پارٹی ہو، مسلم لیگ ن ہو یہ بتادیں کیا وہ بااختیار ہیں؟ ہمارے نکات کو مان لیں، آج ملاقات نہیں کرائی جارہی ملاقات نہ کرانے کی وجہ وہ کوئی چیز چھپانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر علی پارٹی کے چئیرمین ہیں ساری پارٹی ان کے فیصلے مانتی ہے، بانی نے بیرسٹر گوہر کو چئیرمین چنا تھا ہم ان کے احکامات مانتے ہیں۔

سابق اسپیکر کے پی کے مشتاق غنی نے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر انہوں نے کہا کہ کیا ملکی اداروں کو چاہیے کہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف بات کریں؟ سیاسی جماعت سیاسی جماعت کے خلاف بات کرسکتی ہے، حکومت میں بیٹھا عطا تارڑ ہمارے خلاف بات کرے تو اس کو بتائیں، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں بانی خود کہتے ہیں ملک بھی ہمارا اور فوج بھی ہماری مگر فوج کو کس نے حق دیا ہے کہ الزام تراشی کرے؟ جب سوال ہوگا تو جواب آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا آئی جی ہے اس سے بھی بڑے لوگ ہیں یہ پولیس والے معصوم لوگ ہیں، ہم نے کہا تھا ہم نہتے ہیں چھ کے چھ ایم پی اے ہیں ہمیں جانے دیں لیکن ہمیں نہیں چھوڑا گیا، ہمیں روکنا تھا تو جیل کی پولیس روکے اس سے دو میل پہلے ہی روک لیا، یہ ہمارا ملک ہے یا آگے کوئی دوسرا ملک ہے جو ہمیں آگے جانے نہیں دیا جارہا، اس ملک میں مینڈیٹ چور حکمران بیٹھے ہیں اور معصوم قیدی کو جیل میں ڈالا ہے، عدلیہ انجئینریڈ ہے، ہم نے بار بار عدلیہ کے دروازے کھٹکھٹائے ہیں تاریخ لگادیں بانی کی تاریخ نہیں لگاتے اسی عدلیہ کی اجازت سے ہم یہاں آتے ہیں لیکن احکامات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ جنگل کا بھی تو کوئی قانون ہوتا ہے یہ ملک جنگل سے بدتربنادیا گیا، ہر سیاسی جماعت میں مختلف سوچ رکھنے والے ہوتے ہیں، ایک بات طے شدہ ہے کہ بانی نے جو نکات بتائے ہیں ان پر بات ہوسکتی ہے اس کے علاوہ نہیں ہوسکتی، اس کا اختیار بھی علامہ ناصر اور محمود اچکزئی کو دیا ہے،ابھی کھاریاں کے قریب اچکزئی کی گاڑیاں توڑی گئی، ہمارے بارڈر کے چاروں اطراف حالات خراب ہیں ملک کو یک جہتی کی ضرورت ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ہماری ملاقات اگر ہوجائے تو ہم نے کیا شہباز شریف کا تختہ الٹ دینا تھا؟ہماری کسی کے ساتھ محبت ہے نہ مفاہمت ہے ہم کسی صورت کسی دہشت گرد کے ساتھ مفاہمت نہیں رکھتے، ہمارا صرف ایک نقطہ ہے کہ جس علاقے میں آپریشن کرنا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ بات کریں، ہم نے صوبائی اسمبلی میں جرگہ منعقد کیا تمام پارٹیاں موجود تھیں، 
مشترکہ اعلامیہ تھا کوئی دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا صرف ایک نقطہ تھا اپ ہمارے ساتھ کسی بھی ایکشن سے پہلے مشاورت کرلیں ہم آپ کو بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ جو بھی دہشت گرد ہے میرے ملک کو نقصان پہنچائے میرے صوبے کو نقصان پہنچائے، مساجد پر حملے کرے وہ دہشت گرد ہیں ہم ان کو پاکستانی بھی نہیں سمجھتےان کی حمایت کرنا تو دور کی بات ہے۔

مقبول خبریں