لاہور:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مذہب کے نام پر تشدد، املاک کی تباہی، پولیس اور رینجرز کے جوانوں کی شہادت جیسے واقعات افسوسناک ہیں۔ ریاست اپنے شہداء کے خون کا حساب لے گی اور کسی فتنے کو پنپنے نہیں دے گی۔
وزیراعلیٰ اعزازیہ کارڈ برائے امام صاحب پراجیکٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی ںے کہا ہے کہ آئمہ کرام معاشرے کے ستون اور دین کے علمبردار ہیں، ہر خوشی اور غم میں انہی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، اس لیے ان کی عزت، مقام اور معاشی آسودگی یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ نے اعزازیہ کارڈ کے اجرا پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، ہوم سیکرٹری احمد جاوید قاضی اور پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئمہ کرام قابل احترام ہیں، معاشرے میں فیصلوں کے لیے بھی امام مسجد کی طرف دیکھا جاتا ہے اور یہ افسوسناک ہے کہ آج بھی علماء کرام کو معمولی چندے پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ انہیں یہ جان کر دکھ ہوا کہ کئی مساجد میں آئمہ کو صرف پانچ سے دس ہزار روپے دیے جاتے ہیں، حالانکہ عام انسان کی طرح ان کے بھی روزمرہ اخراجات، بچوں کی فیس اور دیگر ضروریات ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں 15 ہزار روپے اعزازیہ کی تجویز دی گئی مگر نواز شریف کی ہدایت پر اسے کم از کم 25 ہزار روپے کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اعزازیہ پروگرام کے آغاز پر منفی پروپیگنڈا کیا گیا، تاہم آئمہ کرام کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا۔ پنجاب میں تقریباً 80 ہزار مساجد ہیں جن میں سے 70 ہزار سے رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے، جبکہ عمل جاری ہے۔ اس ماہ ادائیگی پے آرڈر کے ذریعے ہوگی اور آئندہ ماہ سے مستقل طور پر اعزازیہ کارڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کی جائے گی، جس کا مقصد شفافیت اور آسانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئمہ کرام حکمرانوں اور عوام کی تربیت کرتے ہیں اور حکومت کو امورِ ریاست میں بہتری کے لیے ان کی رہنمائی اور مشاورت کی ضرورت ہے۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ اگر کسی امام کو بیماری، بچوں کی تعلیم یا کسی اور مسئلے کا سامنا ہو تو حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے امن و آشتی، مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے تحفظ پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیتوں کو بے خوف زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ کسی مذہب کو برا کہنا یا مذہب کے نام پر فتنہ پھیلانا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ڈالہ کلچر، خواتین اور بچوں کی بے حرمتی اور دن دیہاڑے قتل کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔
مریم نواز شریف نے آئمہ کرام سے اپیل کی کہ وہ معاشرے کی اصلاح، قانون کے احترام، نشے، جرائم اور ناجائز قبضوں کے خلاف آواز بلند کریں کیونکہ حکومت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی مگر امام مسجد کی آواز ہر جگہ سنی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد ایک ایسا معاشرہ بنانا ہے جس پر سب کو فخر ہو اور امام صاحبان کے لیے اعزازیہ کارڈ اسی سفر کا آغاز ہے۔