پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مختصر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور انہیں سہولیات دینے کیلیے چینی کمپنی کی جانب سے ایپ / پلیٹ فارم پر مختلف فیچرز بھی متعارف کرائے گئے ہیں اور حال ہی میں متعارف کروایا جانے والا فیچر لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
ٹک ٹاک کا سرچ فیچر مواد تلاش کرنے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، جس کے ذریعے لاکھوں افراد نئی سوچ دریافت کرنے، عملی مہارتیں سیکھنے، تحریک حاصل کرنے اور اسی طرح کے دیگرکنٹنٹ سے وابستہ ہونے کے لیے اس پلیٹ فارم کا رخ کرتے ہیں۔
صارفین ٹک ٹاک کو ایک ’ویڈیو فرسٹ‘ سرچ انجن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور خاص طور پر اُس وقت جب وہ معلومات جلد از جلد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق صارفین پلیٹ فارم پر ایسی مختصر ویڈیوز تلاش کرتے ہیں جو معلومات کو فی الفور انداز میں دکھاتی، سمجھاتی اور سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ ان میں امتحان کی تیاری ہو، سفر کی منصوبہ بندی، تازہ خبروں تک رسائی یا کسی نئی مہارت کا حصول۔ یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ اب مستند، کری ایٹرزکی جانب سے ویڈیو کے ذریعے مواد کو ترجیح دے رہے ہیں۔
پاکستان میں ٹک ٹاک محض ایک تفریحی پلیٹ فارم سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ٹک ٹاک اپنے سرچ فیچر کے ساتھ تجسس اور حقیقی زندگی میں کارآمد معلومات پر مبنی ایک متحرک اور بصری دریافت کا تجربہ بن گیا ہے۔
گزشتہ ایک برس کے دوران اس خطے میں تعلیم، ثقافت، کھانوں، سفر، حُسن، طرز زندگی، خبروں اور روزمرہ کے ”ہاؤ ٹو(How-To) “ لمحات سے متعلق تلاش میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اب لوگ سیکھنے، سمجھنے اور جُڑنے کے لیے ٹک ٹاک کا رخ کر رہے ہیں۔
تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کمیونٹی حقیقی دنیا سے تعلق رکھنے والے سوالات کے جوابات پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے تلاش کر رہی ہے۔
گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان میں متعدد مقبول کنٹنٹ سے متعلق ہیش ٹیگز کی تلاش میں نمایاں اضافہ ہوا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پلیٹ فارم کو دریافت کے ایک ذریعہ کے طور پر زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایک سال کے دوران TravelTok# سے منسلک تلاش میں 53 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ #FoodTok کی تلاش میں 52فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح #StudyTok کی تلاش میں 60 فیصد اور FitnessTok# میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سال بہ سال کی بنیاد پر66فیصدتک پہنچ گیا۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی صارفین اپنی دلچسپی اور تجسس سے ہم آہنگ کنٹنٹ تلاش کرنے کے لیے تیزی سے ٹک ٹاک سے جڑ رےہ ہیں۔
اس حوالے سے ٹک ٹاک میں جنوبی ایشیا کے کنٹینٹ آپریشنز عمیس نوید نے کہا کہ ’’پاکستان میں ہماری کمیونٹی ٹک ٹاک کے سرچ فیچر کو ایک نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جب وہ کسی موضوع کو جلدی سمجھنا چاہتے ہیں تو ٹک ٹاک پر چیز تلاش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاک کو جو چیز منفرد بناتی ہے وہ اس کی کمیونٹی کی مستند نوعیت ہے۔ یہاں موجود کنٹنٹ انسانی، عملی اور حقیقی تجربات پر مبنی محسوس ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سرچ صرف معلومات تلاش کرنے کی جگہ نہیں بلکہ اُن نقطۂ نظر سے جُڑنے کا ذریعہ بن جاتی ہے جن پر لوگ اعتماد کرتے ہیں۔“
ٹک ٹاک سرچ کا دائرہ جس طرح وسیع ہو رہا ہے، پلیٹ فارم نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے کہ صارفین اس پروڈکٹ کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کر سکیں۔
ٹک ٹاک کے سرچ انٹروینشنز فعال اِِن ایپ تجربات ہیں جو اُُس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب صارفین حساس یا زیادہ خطرے والے موضوعات تلاش کرتے ہیں، اور انہیں معتبر، معاون اور مستند وسائل کی جانب رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
درج ذیل موضوعات پر سوال یا مواد تلاش کرنے پر کیے جانے والے اقدامات
ذہنی صحت میں معاونت، جس میں مقامی ہیلپ لائنیں اور بہبود کے وسائل ،
بحران میں رہنمائی، جیسا کہ قدرتی آفات یا تیزی سے بدلتے ہوئے ہنگامی حالات میں،
غلط معلومات کے بارے میں ہدایات، جو قابل اعتماد ذرائع سے تصدیق کرنے کی ترغیب دیتی ہیں،
ہراسانی، تشدد یا عوامی تحفظ جیسے حساس مسائل کے بارے میں آگاہی کی فراہمی بھی کی جاتی ہے۔
پاکستان میں انتخابات، آفات کے ردعمل، اور تنازعہ سے متعلق موضوعات کے حوالے سے اضافی ذرائع استعمال کیے گئے ہیں تاکہ صارفین کو ذمہ دارانہ اور سیاق و سباق کے مطابق درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔
اس موضوع پر ٹک ٹاک میں جنوبی ایشیا کی ریجنل ٹرسٹ اینڈ سیفٹی لیڈ، اسما انجم کہتی ہیں کہ ’’سرچ کے حوالے سے ہمارا نقطۂ نظر بنیادی طور پر سیفٹی بائی ڈیزائن پر مبنی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ سرچ انٹروینشنز اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ جب کوئی مدد تلاش کرے یا کسی حساس موضوع کا سامنا کرے، تو اسے بہبود، درستگی اور سماجی ذمہ داری پر مبنی رہنمائی فراہم کی جائے۔“