امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے لیے انتخابی مہم کے دوران اپنی تقریروں، بیانات اور متعدد انٹرویوز میں بڑے یقین اور اعتماد کے ساتھ بلند و بانگ دعوے کیے تھے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ دنیا میں امن کے لیے کام کریں گے اور جاری جنگوں کو رکوانے میں اپنا مصالحانہ کردار ادا کریں گے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ جنگ رکوانے میں واقعی اپنا مصالحتی کردار ادا کیا اور دو ایٹمی ممالک جو ایک تباہ کن جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے انھیں باہمی تجارت کی پیش کش کر کے ایٹمی جنگ کو رکوایا، جس کا وہ برملا اظہار اپنے انٹرویوز اور بیانات میں کرتے رہتے ہیں کہ میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی ہے، ساتھ ہی وہ دنیا میں جاری آٹھ دیگر جنگیں رکوانے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں، لیکن صدر ٹرمپ یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ رکوانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے۔
عالمی حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین اور تجزیہ نگارکہتے ہیں، اگرچہ صدر ٹرمپ نے بعض ممالک کے درمیان تنازعات وکشیدگی ختم کرنے میں مصالحانہ کردار ضرور ادا کیا ہے، تاہم آٹھ جنگیں مکمل طور پر ختم کرانے کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے پر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے نہ صرف صدر ٹرمپ کے کردارکو سراہا اور عالمی سطح پر اسے اجاگرکیا بلکہ انھوں نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبل پرائز کے لیے بھی نامزد کرتے ہوئے قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا خطہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان بڑی جنگ سے محفوظ رہا اور امریکی صدر نے کروڑوں لوگوں کی زندگی بچائی، لہٰذا وہ امن کے نوبل پرائزکے حق دار ہیں، لیکن افسوس کہ نوبل پرائزکمیٹی نے صدر ٹرمپ کو امن کے عالمی اعزاز کے لیے نامزد کرنا مناسب نہیں سمجھا اور وہ اس عالمی اعزاز سے محروم رہے۔
توقع یہ کی جا رہی تھی کہ غزہ امن معاہدے کے بعد اسرائیل فلسطین نہ صرف ختم ہو جائے گی بلکہ صدر ٹرمپ کی سرپرستی میں غزہ امن معاہدے سے فلسطین کا کوئی قابل قبول حل تلاش کرلیا جائے گا اور اسرائیل معصوم و بے گناہ فلسطینیوں پر ظلم و بربریت سے باز آجائے گا، لیکن افسوس صدر ٹرمپ نیتن یاہو کو فلسطینیوں پر بمباری کرنے سے روکنے میں ناکام رہے، بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایران پر بمباری کر کے صدر ٹرمپ نے اپنی آیندہ کی امریکی پالیسی اور عزائم کا اظہار بھی کر دیا تھا اور نئے سال 2026 میں جنوبی امریکا کے ایک اہم ملک وینز ویلا پر حملہ کر کے اس کا آغاز بھی کردیا ہے۔
امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس و دیگر علاقوں پر حملے کر کے صدر نکولس مادورو ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو ان کے بیڈ روم سے گرفتارکیا اور امریکا لا کر اسے نیویارک کی عدالت میں پیش کردیا گیا۔ امریکا نے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں، لہٰذا ان پر مقدمہ چلا کر سزا دی جائے گی، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کا سارا نظام اور تیل کے ذخائر امریکا کنٹرول کرے گا۔ واضح رہے کہ وینزویلا دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا اور دیگر معدنی ذخائر سے مالا مال ملک ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے بعد کولمبیا، میکسیکو،کیوبا اورگرین لینڈ، ڈنمارک پر بھی حملے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ ایران اور افغانستان بھی امریکی حملوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ، چین، روس، برطانیہ اور دیگر ممالک نے وینز ویلا پر امریکی حملے کی شدید مذمت اور اسے عالمی قوانین کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ امریکی و برطانوی میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی وینزویلا پر امریکی حملے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
وینزویلا، امریکا، برطانیہ،آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں عوامی سطح پر بھی بھرپور احتجاج کیا جا رہا ہے۔ امریکا اور وینزویلا کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی ہے۔ وینزویلا کے سابق صدر ہوگو شاویزکے دور میں بھی دوطرفہ کشیدگی میں خاصا اضافہ رہا لیکن حالات جنگ کی نوبت تک نہیں پہنچے تھے۔ وینزویلا اور ایران کے درمیان بڑھتے دو طرفہ مراسم بھی امریکا کی تشویش اورکشیدگی میں اضافے کا باعث بنے۔ صدر ٹرمپ نے ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج کو اپنے ہدف کے لیے ’’ موقع‘‘ جانتے ہوئے ایران کو خبردارکیا ہے کہ اگر مظاہرین پرگولیاں چلائی گئیں تو امریکا انتہائی سخت جواب دے گا۔ ایران نے جواباً امریکا کو واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر اقدام کرے گا۔