ایران میں مظاہرے بے قابو، ملک بھر میں انٹرنیٹ کا مکمل بلیک آؤٹ

تہران، تبریز، اصفہان، مشهد اور کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں


ویب ڈیسک January 09, 2026

TEHRAN:

ایران کی اسلامی جمہوریہ ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں معاشی تباہی نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔

انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے، جو احتجاج کو روکنے کی حکومت کی آخری کوشش معلوم ہوتی ہے۔

یہ بلیک آؤٹ احتجاج کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی آیا جب تہران سمیت ملک بھر کے شہروں میں لاکھوں افراد نے سڑکیں بلاک کر دیں اور نظام کے خلاف نعرے لگائے۔

قطری خبر رساں ادارے کے رپورٹر توحید اسدی نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات 8 بجے سے دارالحکومت کے متعدد محلے سڑکوں پر نکل آئے۔

شہر کے مرکزی علاقوں سے گزرتے ہوئے کئی سڑکیں بلاک تھیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سیاسی قیادت کے خلاف سخت نعرے سنائی دے رہے تھے۔

اسدی نے مزید کہا کہ معاشی دباؤ نے عوامی اعتماد کو ختم کر دیا ہے، خاص طور پر مزدور اور نچلی متوسط طبقے اب روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

احتجاج دسمبر کے آخر سے جاری ہیں، جو ایرانی ریال کی شدید گراوٹ اور اشیاء کی آسمان چھوتی قیمتوں پر شروع ہوئے۔ اب یہ معاشی مطالبات سے آگے نکل کر سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے اب تک کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ہزاروں گرفتار کیے گئے۔

تہران، تبریز، اصفہان، مشهد اور کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، اور بازاروں میں تاجر ہڑتال پر ہیں۔

حکومت کی جانب سے مخلوط پیغامات آ رہے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے سیکورٹی فورسز کو انتہائی تحمل کا حکم دیا ہے مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

مقبول خبریں