پاکستان کی بہترین سفارتی پالیسی اور ابھرتے ہوئے عالمی کردار کی دنیا معترف ہوتی جا رہی ہے، جب کہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کے مثبت ثمرات بھی واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
حکومت، ریاستی اداروں اور عوام کی جانب سے قومی معاملات بالخصوص دہشت گردی کے خلاف یکساں اور دوٹوک مؤقف کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے، جسے پاکستان کی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ ریاستی پالیسی کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے بیک وقت امریکا کے ساتھ تعمیری تعلقات اور چین کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری کو متوازن انداز میں آگے بڑھا کر ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
عالمی جریدہ دی ڈپلومیٹ کے مطابق بہترین سفارت کاری کی بدولت پاکستان خطے میں مرکزِ نگاہ بن گیا ہے، جب کہ آئرن برادر چین نے پاکستان کے خطے میں بڑھتے ہوئے مؤثر کردار اور بہترین سفارت کاری کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق چین پاکستان کو ایک ایسا ملک تصور کرتا ہے جو معاشی طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ سرحدوں سے باہر بھی مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا سے اچھے تعلقات کے ساتھ ساتھ پاک چین دوستی بھی مضبوطی سے درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے جب کہ چین پاکستان کے عالمی اور علاقائی معاملات میں اہم کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
عالمی جریدے کے مطابق چین پاکستان کو سلامتی کونسل اور شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت کے لیے بہترین اور موزوں تصور کرتا ہے جب کہ پاکستان بھی چین کے ساتھ متعدد شعبوں میں اسٹرٹیجک شراکت داری کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ چین نے ایک بار پھر پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق چین نے مسئلہ کشمیر کے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل پر زور دیا ہے جب کہ افغان صورتحال پر بھی چین نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جامع حکومت قائم کریں اور شدت پسندوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔ چین نے پاکستان کے مؤقف کے مطابق افغان حکومت پر اعتدال پسندی اختیار کرنے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔
عالمی جریدے کے مطابق چین خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ پالیسیوں کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ پالیسیوں کی حمایت دراصل پاکستانی مؤقف کی بھرپور توثیق ہے، جب کہ پاکستان کی بہترین سفارت کاری اور دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف پر عالمی جریدہ دی ڈپلومیٹ نے بھی مہر ثبت کر دی ہے۔