دنیا بھر میں ایسے بے شمار مقامات موجود ہیں جو اپنی قدرتی خوبصورتی، پرسکون ماحول اور دلکش مناظر کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔
پاکستان بھی ایسے ہی ممالک میں شامل ہے جہاں دنیا کے بہترین اور جنت نظیر سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ ٹور ایکسپرٹس کے مطابق ایک طرف تو پاکستان میں حسین نظارے سیاحوں کو محوِ حیرت کرتے ہیں تو دوسری طرف عالمی سیاحت کے معروف مقامات اپنی شاندار ثقافت، فنِ تعمیر اور فطری دلکشی سے دنیا بھر کے مسافروں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔
پاکستان میں شمالی علاقہ جات اپنی مثال آپ ہیں۔ ہنزہ، اسکردو، عطا آباد جھیل، دیوسائی اور کٹوپانا کے سنہری میدان وہ مقامات ہیں جہاں دنیا بھر سے سیاح قدرت کے شاہکار دیکھنے آتے ہیں۔

نیلم ویلی کی سبز وادیوں سے لے کر کے ٹو کے پہاڑی سلسلے تک، ہر مقام فطرت کے ایسے رنگ پیش کرتا ہے جو انسان کو سکون اور تازگی بخشتے ہیں۔ پاکستان کی یہ خوبصورت وادیاں ان ممالک کا مقابلہ کرتی ہیں جنہیں ٹورازم کے لیے دنیا بھر میں شہرت حاصل ہے۔

دنیا کے خوبصورت مقامات کی بات کی جائے تو سوئٹزرلینڈ کے برف پوش پہاڑ، فرانس کے پُرکشش دیہات، جاپان کے چیری بلاسم سے سجی سڑکیں اور ترکی کے تاریخی شہر ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

ان ممالک میں قدرتی حسن اور جدید سہولیات کا امتزاج سفر کو مزید یادگار بنا دیتا ہے۔ اسی طرح مالدیپ، بالی، نیوزی لینڈ اور آئس لینڈ جیسے مقامات اپنی غیر معمولی خوبصورتی، نیلگوں پانیوں اور منفرد جغرافیائی ساخت کی وجہ سے دنیا کے نمایاں ترین سیاحتی مقامات میں شمار کیے جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے متعدد مقامات عالمی رینکنگ میں بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ ہنزہ، سوات اور کیلاش ویلی جیسی جگہیں عالمی سیاحتی بلاگز اور وی لاگز میں نمایاں مقام حاصل کر رہی ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی سیاح ان علاقوں کے مہمان نواز لوگوں، منفرد ثقافت اور دلکش مناظر کے ہمیشہ معترف رہے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کے تحت آنے والے برسوں میں پاکستان کے شمالی علاقے دنیا بھر کے ٹورازم انڈیکس میں مزید ترقی کر سکتے ہیں۔

خوبصورت مقامات کا اصل حسن صرف ان کے مناظر میں نہیں بلکہ ان کے احساس اور تجربے میں ہوتا ہے۔ چاہے یہ پاکستان کی پُرسکون وادیاں ہوں یا دنیا کے مشہور سیاحتی مقامات، ہر جگہ اپنے اندر ایک نیا تجربہ اور یادگار لمحہ سموئے ہوئے ہے۔ سیاحت نہ صرف ذہنی سکون فراہم کرتی ہے بلکہ مختلف تہذیبوں اور لوگوں سے رابطہ بھی انسان کے علم اور سوچ میں اضافہ کرتا ہے۔