ریاست منی پور میں مرکز ی حکومت سے دوری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
حال ہی میں دی اکانومسٹ نے تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ منی پور میں تین سال بعد بھی امن بحال نہ ہو سکا-
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بی جے پی حکومت کے غیر سنجیدہ رویے نے منی پور کو عملی طور پر نسلی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے- منی پور میں کُوکی اور میتی برادری کے درمیان بڑھتی دوریاں بی جے پی حکومت کی بالادستانہ سوچ کا نتیجہ ہیں۔

صدر راج کے نفاذ کے باوجود بی جے پی حکومت منی پور میں اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی ہے - مرکز کے خلاف غصہ شدت اختیار کر گیا جبکہ 2023 میں ہندو میتئی کمیونٹی اور عیسائی کوکی کمیونٹی کے مابین بدترین “نسلی تشدد ” ہوا تھا۔

متاثرین نے بی جے پی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے تنازع کو منظم کیا- بی جے پی حکومت وہ ضروری اقدامات لینے سے گریزاں رہی جو اس تشدد کو روک سکتے تھے۔

پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ یہ تنازع "ریاستی نااہلی" کے باعث شدت اختیار کر گیاہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تقریباً 50,000 لوگ (زیادہ تر کوکی عیسائی) آج بھی پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہیں۔

کوکی بیروزگار 84 روپے (0.90 ڈالر) یومیہ حکومتی وظیفے پر گزارہ کر رہے ہیں۔ کوکی کمیونٹی اپنے لیے نیم خود مختار علاقہ کا مطالبہ کرتی ہے منی پور میں سیکیورٹی کے نام پر جابجا چیک پوسٹوں نے زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ کوکی قبائل کو عدالتوں سے بھی انصاف نہیں ملا۔

منی پور بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے- بی جے پی کی بد انتظامی منی پور میں نسلی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے- ناکام گورننس نے منی پور میں پرانی آزادی پسند تحریکوں کے دوبارہ ابھرنے کا خطرہ پیدا کر دیا۔